اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِإِنَائٍ مِنْ مَائٍ فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ فِيهِ شَيْئٌ مِنْ مَائٍ فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ فِيهِ قَالَ أَنَسٌ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَی الْمَائِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ قَالَ أَنَسٌ فَحَزَرْتُ مَنْ تَوَضَّأَ مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَی الثَّمَانِينَ۔
صحیح بخاری (حدیث 200)حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پانی کا ایک برتن طلب فرمایا۔ تو آپ ﷺ کے لیے ایک چوڑے منہ کا پیالہ لایا گیا جس میں کچھ تھوڑا پانی تھا، آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں اس میں ڈال دیں۔ انس کہتے ہیں کہ میں پانی کی طرف دیکھنے لگا۔ پانی آپﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ اس (ایک پیالہ) پانی سے جن لوگوں نے وضو کیا، وہ ستر (70) سے اسی (80) تک تھے۔
آپ ﷺ کی انگلیوں کے اوصاف ایسے تھے کہ قدرے لمبی، قوی اور خوبصورت تھیں۔ آپ ﷺ کی مبارک انگلیوں کے اوصاف مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے بیان کرتے ہوئے فرمایا: *"كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم شَثْنُ الكفَّین والقدمین سائل الأطراف۔"* رسول اکرمﷺ کی باکر امت ہاتھ اور قدم گدازتھےاورانگلیاں مبارک طویل تھیں۔ ( الوفا باحوال مصطفیٰﷺص453) حضرت انس بیان کرتے ہیں:میں نے حضور ﷺکو دیکھا اس وقت نماز عصر کا وقت آچکا تھا۔ صحابہ کرا م نے وضو کے لیے پانی تلاش کیا مگر انہیں نہ ملا۔ حضور ﷺ کے سامنے تھوڑا سا پانی پیش کیا گیا تو حضور ﷺ نے اپنا دست مبارک اس میں ڈالا اور لوگوں سے ارشاد فرمایا: اب وضو کرتے جاؤ۔ حضرت انس کا بیان ہے: میں نے حضورﷺ کی انگلیوں سے پانی ابل ابل کر نکلتے دیکھا اور تمام صحابہ کرام نے اس سے وضو کیا۔ (دار السلام،ص340) امام طبرانی نے حضرت ابن ابی لیلیٰ انصاری سے اسی طرح انگشتان مبارکہ سے پانی جاری ہونے کا ایک واقعہ بیان فرمایا ہے وہ کہتے ہیں : *"فرایت الماء ینبع من بین اصابع رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم حتى روى القوم وسقوا ركابھم"* میں نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺکی انگلیوں سے چشمہ جاری ہے یہاں تک کہ پورے لشکر نے سیراب ہوکر پیا اور انہوں نے اپنی سواریوں کو بھی پلایا۔ (المعجم الکبیر ، حدیث: 6420) حضورﷺ کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب نے فرمایا: *"یا رسول اللّٰه دعانى الى الدخول فى دینك امارة لنبوتك رایتك فى المھد تناغى القمر وتشیر الیه باصبعك فحیث اشرت الیه مال قال: انى كنت احدثه ویحدثنى ویلھینى عن البكاء واسمع وجبته حین یسجد تحت العرش"* یا رسولﷲ ﷺ! مجھے تو آپﷺ کی نبوت کی نشانیوں نے آپ ﷺکے دین میں داخل ہونے کی دعوت دی تھی، میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ گہوارے میں چاند سے باتیں کرتے اور اپنی انگلی سے اس کی طرف اشارہ کرتے اور جس طرف اشارہ فرماتے چاند جھک جاتا تھا۔ حضورنبی کریمﷺ نے فرمایا: میں چاند سے باتیں کرتا تھا اور چاند مجھ سے باتیں کرتا تھا اور وہ مجھے رونے سے بہلاتا تھا اور اس کے عرشِ الٰہی کے نیچے سجدہ کرتے وقت میں اس کی تسبیح کرنے کی آواز کو سنا کرتا تھا۔ ( دلائل النبوۃ ، ج -2 ص41)