اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَالِفُوا الْمُشْرِکِينَ وَفِّرُوا اللِّحَی وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَجَّ أَوْ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَی لِحْيَتِهِ فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ
صحیح بخاری (حدیث 5892)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم مشرکین کے خلاف کرو، داڑھی چھوڑ دو اور مونچھیں کترواؤ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی ہاتھ سے پکڑ لیتے اور (مٹھی) سے جو بال زیادہ ہوتے انہیں کتروا دیتے۔
ہمارے پیارے آقا ﷺ کی داڑھی مبارک ہمیشہ ایک مٹھی کی مقدار رہتی تھی ،اگرایک مٹھی کی مقدار سے بڑھ جاتی تو کم کروا دیا کرتے ،آپ ﷺ کی داڑھی مبارک چوڑائی میں ایسی تھی کہ سینہ مُبَارک کو بھر دیتی (انوارِ جمالِ مصطفٰیﷺ ،ص:157) حضرت سعید بن مسیب کی اسی روایت کو ابن عساکرنے بھی ان الفاظ میں بیان کیاہے: *"كان اسود اللحیه حسن الشعر"* حضور نبی اکرم ﷺکی ریش مبارک سیاہ اور خوبصورت تھی۔ (، تاريخ دمشق، ج-3،ص269) حضرت عبد اﷲ بن عمر و بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے: *"ان رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم كان یاخذ من لحیته من عرضھا و طولھا"* آپﷺ داڑھی مبارک کے طول و عرض کو برابر طور پر کاٹ دیتے تھے۔ (سنن الترمذی، حدیث: 2762) رسول اکرم ﷺکی سنت ہے کہ آپ ﷺ داڑھی مبارک کو سنوار تے تھے اور اسی طرح سنوارنے کا حکم صحابہ کرام کو بھی دیا کرتے تھے۔ اسی لیے صحابہ کا معمول تھا کہ وہ ایک مٹھی سے زائد داڑھی کٹوا دیتے تھے۔ حضرت عبداﷲ بن عمر کا معمول تھا جب آپ حج یا عمرہ سے فارغ ہو تے توداڑھی کی مناسب تراش خراش کرتے چنانچہ ان کے بارے میں منقول ہے: *"قبض على لحیته فما فضل اخذه"* داڑھی مبارک کو مشت میں لیتے جو اس سے زائد ہوتی اسے کٹوادیتے۔ (صحیح البخاری، حدیث:5892) حضور نبی کریمﷺ کے سرِمبارک اور داڑھی مبارک کے بال سیاہ تھے۔ تاہم آخری عمرِ مبارکہ میں کچھ بال مبارک سفید بھی ہوگئے تھے ۔آپ ﷺکی ٹھوڑی مبارک کے اوپری بال سفید تھے اور سرِ مبارک اور داڑھی مبارک کے دوسرے حصوں میں سفید بال بہت کم تھے جو حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام میں سفید ہوئے تھے۔ چنانچہ اسی حوالہ سے حضرت وہب بن ابو جحیفہ بیان کرتے ہیں: *"رایت النبى صلى اللّٰه علیه وسلم ورایت بیاضا من تحت شفته السفلى العنفقة"* میں نے حضور ﷺکی زیارت کی اور میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے لب اقدس کے نیچے کچھ بال سفید تھے۔ (فيض الباري على صحيح البخاري، ج-4،ص434) ان روایات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اکرم ﷺ اپنی داڑھی مبارک کو تراشتے اور سنوارتے بھی تھے اور صحابہ کرام کا بھی یہی معمول تھا کہ قبضہ سے زائد داڑھی کو ترشوادیتے تھے۔