logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

آقا کریم ﷺ کی گردن مبارک

آقا کریم ﷺ کی گردن مبارک

نبی پاک ﷺ کی جسمانی صفات

حدیث

کَانَ عُنُقَهٗ جِیدٌ دُمْیَةٌ فِىْ صَفَاءِ الْفِضَّةِ۔

مدراج النبوہ (ص 31)

ترجمہ

حضورﷺ کی گردن مبارک مورتی کی طرح تراشی ہوئی اور چاندی کی طرح صاف تھی۔

حکایت

الشیخ عبداﷲ سراج الدین شامی فرماتے ہیں: *"كان عنقه صلى اللّٰه علیه وسلم فى استواه ٔواعتداله وحسن ھیئة وجماله كانه عنق صورة ولكن من حیث اللون ھو فى صفاء الفضة وبیاضھا البھیج اللامع."* آپ ﷺ کی مبارک گردن، استواء، اعتدال اور حسن و جمال میں ایسی تھی جیسے کوئی مورتی تراشی گئی ہو رنگ میں چاندی کی طرح صاف وشفاف اور سفیدی میں خوب روشن تھی۔ (محمد رسول اﷲ ﷺص218) رسول اکرمﷺ کی گردن مبارک لوگوں میں سے سب سے زیادہ حسین اور شفاف چاندی کی طرح واضح محسوس ہوتی تھی۔چنانچہ حضرت حافظ ابوبکر ابن ابی خیثمہ اسی پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: *"كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم احسن الناس عنقا ما ظھر عن عنقه للشمس والریاح فكانه بریق فضة مشرب ذھبا یتلأ لأ فى بیاض الفضة وحمرة الذھب وما غیبت الثیاب من عنقه فما تحتھا فكانه القمر لیلة البدر"* حضور ﷺکی گردن مبارک تمام لوگوں سے بڑھ کر خوبصورت تھی۔ دھوپ یا ہوا میں گردن کا نظر آنے والا حصہ چاندی کی صراحی کے مانند تھا جس میں سونے کا رنگ اس طرح بھرا گیا ہوکہ چاندی کی سفیدی اور سونے کی سرخی کی جھلک نظر آتی ہو اور گردن کا جو حصہ کپڑوں میں چھپ جاتا وہ چودھویں کے چاند کی طرح روشن اور منور ہوتا۔ (سبل الہدی والرشاد، ج -2ص43) ابن جوزی نے بھی اس حدیث مبارکہ کو عثمان بن عبدالملک سے روایت کیا ہے جس کے الفاظ یوں نقل کیے ہیں: *"حدثنى خالى وكان من أصحاب على یوم صفّین عن على قال: كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم كأن عنقه إبریق فضة"* مجھے میرے ماموں جو جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ تھےانہوں نے حضرت علی سے یہ روایت بیان کی کہ سرور عالمﷺ کی گردن مبارک صفائی اور سفیدی کے لحاظ سے چاندی کے کوزہ کی مانند تھی۔ (الوفا بأحوال المصطفى، ج-2، ص50) نبی اکرم ﷺکی گردن مبارک ہر قسم کے عیب سے مبّرا اور انسان کے جسمانی نقائص و معائب سے پاک تھی۔ یعنی نہ حد اعتدال سے زیادہ فربہ تھی اور نہ ہی بالکل پتلی بلکہ معتدل تھی عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ عموماً جلد لٹکنا یا ڈھیلی پڑنا شروع ہوجاتی ہے۔ جس کے ذریعہ جھریاں (wrinkles) پڑنا ایک فطری امر ہوتا ہے۔ لیکن آقا کریم ﷺ کو رب تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے شاہکار حسن و جمال بناکر خود آپ ﷺکی آرائش و زیبائش کا انتظام کر رکھا تھا۔ وہ ذات جو ہر عیب سے خود پاک ہے اپنے حبیب کریم ﷺمیں کس طرح کوئی ادنی ٰسا بھی عیب گوارا کیسے کرسکتی ہے۔ گردن مبارک بھی آپ ﷺکے جمال خلقی کا شاہکار تھی۔

آقا کریم ﷺ کی گردن مبارک | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya