اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ شَکَوْنَا إِلَی رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم الْجُوعَ وَرَفَعْنَا عَنْ بُطُونِنَا عَنْ حَجَرٍ فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم عَنْ بَطْنِهِ عَنْ حَجَرَيْنِ.
شمائل ترمذی (حدیث 348)حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم ﷺ سے بھوک کی شکایت کی اور اپنے پیٹ پر باندھے ہوئے ایک ایک پتھر سے کپڑا اٹھا کر دکھایا تو نبی کریم ﷺ نے اپنے شکم انور سے کپڑا اٹھا کر دو باندھے ہوئے پتھر دکھائے۔
امام ابن اسحاق نے کہا: مجھ سے حبان بن واسع بن حبان نے اپنی قوم کے بعض شیوخ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اﷲﷺ بدر کے روز اپنے صحابہ کرام کی صف بندی کررہے تھے۔ آپ ﷺ کے دست مبارک میں ایک تیر تھا جس کے اشارہ سے اپنی قوم کی صفیں سیدھی فرمارہے تھے۔ حضور ﷺ بنی عدی بن نجار کے حلیف حضرت سواد بن عزیہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ صف سے آگے نکلے کھڑے تھے۔ حضورﷺ نے اس تیر سے ان کے شکم پر ہلکی سی چوٹ لگائی اور فرمایا: اے سواد! سیدھے ہوجاؤ، وہ کہنے لگے یا رسول اﷲ ﷺ ! مجھے درد ہوا ہے اور اﷲ تعالیٰ نے آپﷺ کو حق و انصاف کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ پس مجھے اس چوٹ کا بدلہ دیجئے۔ رسول اﷲ ﷺ نے فوراً اپنے شکم اقدس سے قمیص اٹھادی اور فرمایا: آؤ بدلہ لے لو۔ انہوں نے لپک کر حضور ﷺکو گلے لگالیا اور پیٹ مبارک کو چوم لیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے پوچھا اے سواد! تم نے ایسا کیوں کیا؟ "انہوں نے عرض کی:یارسول اﷲﷺ ! جومرحلہ ہمیں درپیش ہے وہ حضورﷺ ملاحظہ فرمارہے ہیں،میری یہ آرزو تھی کہ اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت میری جلد حضور ﷺ کی جلد مبارک سے مس ہو جائے،اس پر رسول اﷲﷺ نے انہیں دعائے خیر سے سرفراز فرمایا۔ (سیرۃ النبویۃ لابن ہشام ، ج-1ص626) نبی اکرم ﷺکا شکم مبارک سینہ اقدس سے بڑھا ہوا نہیں تھا جو کہ مردانہ حسنووج اہت کے لیے اہم ترین شئی سمجھی جاتی ہے۔ چنانچہ اس حوالہ سےحضرت ہند بن ابی ہالہ بیان کرتے ہیں: * "كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم سواء البطن والصدر"* حضورﷺ کا شکم مبارک اورسینہ مبارک برابر تھے۔ ( المعجم الکبیر، حدیث : 414) حضرت اُم ہانی آپ ﷺ کے شکم مبارک کے بارے میں فرماتی ہیں: *"مارایت بطن رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم قط الا ذكرت القراطیس المثنیة بعضھا على بعض."* میں نے حضور نبی کریمﷺ کے شکم مبارک کو ہمیشہ لپٹے ہوئے کاغذ کی طرح تہ بہ تہ نازک اور لطیف دیکھا۔ (مسند ابی داؤدحدیث: 1724) اسی طرح حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ بھی فرماتے ہیں: *"كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم دقیق المسربة له شعرات من لبته الى سرته كانھن قضیب مسك اذفر ولم یكن فى جسده ولا صدره شعرات غیرھن"* حضور نبی کریم ﷺ کے سینہ اقدس کے اوپر سے لے کر ناف تک بالوں کا ایک خط بنا ہوا تھا گویا کہ وہ مشک اذفر کی ایک سطر تھی۔ آپ ﷺ کے جسم اطہر اور سینہ مبارک پر ان کے علاوہ اور بال نہ تھے۔ (سبل الہدی والرشاد ،ص56)