اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ أَرٰى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهٖ وَعَنْ يَسَارِهٖ حَتّٰى أَرٰى بَيَاضَ خَدِّهٖ
مشکاۃ المصابیح (حدیث 943)روایت ہے حضرت عامر بن سعد سے وہ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ دائیں بائیں سلام پھیرتے حتی کہ آپ ﷺ کے رخسار کی سفیدی میں دیکھ لیتا۔
حضرت عبد الرحمن بن صفوان بیان کرتے ہیں: جب حضور نبی کریم ﷺ نے مکّہ مکرّمہ فتح کرلیا تو میں نے اپنے دل میں سوچا کہ گھر جاکر جو راستے ہی میں تھا کپڑے پہنتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ نبی کریمﷺ کیا کرتے ہیں چنانچہ میں چلا اور نبی کریم ﷺ کے پاس اس وقت پہنچا کہ جب آپ ﷺ خانہ کعبہ سے باہر آچکے تھے صحابہ کرام کعبہ کے دروازے سے حطیم تک استلام کررہے تھے انہوں نے اپنے رخسار بیت اﷲ پر رکھے ہوئے تھے اور نبی کریمﷺ ان سب کے درمیان میں تھے میں نے حضرت عمر سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے خانہ کعبہ میں داخل ہوکر کیا کیا تو انہوں نے بتایا کہ نبی کریمﷺ نے دو رکعتیں پڑھی تھیں۔ (ؤسسۃ الرسالۃ، بیروت ص217) حضرت ہند بن ابی ہالہ فرماتے ہیں: *"كان رسول الله صلى الله علیه وسلم سھل الخدین"* رسول اﷲ کے رخسار مبارک ہموارتھے۔ (الوفا بأحوال المصطفى، ج-2 ص44) یعنی آپﷺ کے مبارک رخسار نہایت ہی خوبصورت تھے۔ رنگت میں سفید سرخی مائل تھے ۔ نرم اور دلکش تھے۔ ان میں اُبھار نہیں تھا اور نہ ہی دبے ہوئے تھے، بلکہ اعتدال پر تھے۔ آپ ﷺ کے دونوں رخسار اٹھے ہوئے نہ تھے بلکہ ہموار تھے۔ آپ ﷺ کے رخسار مبارک پر کلیوں کی طرح تازگی ہی رہتی تھی۔جیسے امام شرف الدین بوصیری علیہ رحمہ نے قصیدہ بردہ شریف میں فرمایا: *"كالز ھرفى ترف والبدر فى شرف"* *"والبحرفى كرم والد ھرفى ھمم"* حضور اکرم ﷺ تازگی میں شگوفہ گل ، بزرگی میں چودھویں رات کے چاند اور بخشش میں دریا اور ہمت میں زمانہ ہیں۔ (قصیدۃ البردۃ شریف) خلاصہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کو رب تعالیٰ نے ایسے رخسار عطافرمائے تھے جو نہ ہی چپکے ہوئے تھے اور نہ دبے ہوئے تھے، نہ ہی ان میں غیر موزوں اٹھان تھی بلکہ وہ آپﷺ کے چہرہ مبارک کی ہیئت کے عین مناسب تھے ۔اس کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کے رخسار وں میں کچھ دراریں بھی نہیں بلکہ خوبصورت چمک تھی جو آنکھوں کو بھاتی اور آپ ﷺ کے چہرے مبارک کی دلکشی میں بے پناہ اضافہ کرتی تھی۔ حضور ﷺ کا یہ معجزہ تھا کہ تمام عیوب ونقائص سے آپ ﷺ کے رخسار مبارک آخری لمحات تک پاک تھے۔ صحابہ کرام نے جب جب اور جس جس حالت میں آپ ﷺ کے رخسار مبارک کی زیارت کی کیفیت کو بیان فرمادیا، حضور اکرم ﷺ تازگی میں شگفۃ گل اور بزرگی میں چودھویں رات کے چاند کی طرح تھے کیا کمالات اللہ نے آپ ﷺ کے اندر رکھے تھے۔ انسان ابھی تک اس کے عرفان تک نہیں پہنچا۔