اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ سَأَلْتُ خَالِي هِنْدَ بْنَ أَبِي هَالَةَ وَکَانَ وَصَّافًا عَنْ حِلْيَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیہ وَ آلہِ وَسَلَّم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فَقَالَ کَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیہ وَ آلہِ وَسَلَّم وَاسِعُ الْجَبِينِ ۔۔۔۔۔الخ،
(شمائل ترمذی طویل حدیث، حدیث 07)حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ سے حضور اکرم ﷺ کا حلیہ مبارک دریافت کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرمایہ رسول ﷺ کشادہ پیشانی والے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
امام ابن جوزی نے بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ حضرت سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ اوصاف مصطفی ﷺبیان کرتے تو آپ ﷺ کی پیشانی مبارک کا وصف یوں بیان کرتے: *"كان مفاض الجبین"* حضور ﷺ کی پیشانی مبارک کشادہ تھی۔ یعنی رسول اکرم ﷺ کی پیشانی مبارک نہ چھوٹھی تھی او رنہ ہی موٹی بلکہ حسن کے امتیاز کے ساتھ کشادہ و فراخ تھی۔ اُم المؤمنین حضرت عائشہ الصدیقہ نے ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺکی جبین اقدس پر پسینہ مبارک کے قطروں کو دیکھ کر چند اشعار بھی پڑھے تھےجن میں اس پیشانی مبارک کی نورانیت کو بیان کیا تھا۔ چنانچہ اس حوالہ سے علامہ ابن کثیر روایت کرتے ہیں۔ (الوفا بأحوال المصطفى، ج-2ص41) ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں چرخہ کاٹ رہی تھی اور حضور نبی کریم ﷺ میرے سامنے بیٹھے ہوئے اپنے جو تے کو پیوند لگارہے تھے۔ آپﷺ کی پیشانی مبارک پر پسینے کے قطرے تھے جن سے نور کی شعاعیں نکل رہی تھیں۔ اس حسین منظر نے مجھ کو کاٹنے سے روک دیا۔ پس میں آپﷺ کو دیکھ رہی تھی کہ آپ ﷺ نے فرمایا تجھے کیا ہوا اےعائشہ؟ میں نے عرض کیا: آپ کی پیشانی مبارک پہ پسینے کے قطرے ہیں جو (چمکتے ہو ئے)نور کے ستارے معلوم ہو تے ہیں۔ اگر ابو کبیر ہذلی (عرب کا مشہور شاعر) آپ ﷺکو اس حالت میں دیکھ لیتا تو یقین کرلیتا کہ اس کے شعر کا مصداق آپ ﷺ ہی ہیں۔ " جب میں اس کے روئے مبارک کو دیکھتا ہوں تو اس کے رخساروں کی چمک مثل ہلال نظر آتی ہے" ( البدایۃ والنھایۃ، ج -8ص401) شاعرِ رسول حضرت حسان بن ثابت نے آپ ﷺ کی روشن پیشانی کے حسن کا لفظی مرقع اپنے ایک شعر میں یوں پیش کیا ہے: * "متی یبد فی الداجی البھیم جبینه یلح مثل مصباح الدجی المتوقد"* رات کی تاریکی میں حضورﷺ کی پیشانی مبارک اس طرح چمکتی دکھائی دیتی ہے جیسے سیاہ اندھیرے میں روشن چراغ چمکتاہے۔ ( دیوان حسان،ص67) اس امت میں وہ کتنے خوش نصیب لوگ ہیں جن کو رحمت دوجہاں کی مقدس پیشانی کا بوسہ نصیب ہوا۔ جب حضور ﷺ کا وصال ہوا تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ حجرہ عائشہ صدیقہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور آپ ﷺ یمنی کپڑے میں آرام فرما تھےتو حضرت ابوبکر صدیق نے آپ ﷺ کے چہرے کو کھولا پھر آپ ﷺ کی پیشانی مبارک کو بوسہ دیا۔ (صحیح البخاری، حدیث:1241)