اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَاَ فِي الْعِشَاءِ بِالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ فَمَا سَمِعْتُ اَحَدًا اَحْسَنَ صَوْتًامِنْهُ۔
ریاض الصالحین (حدیث 1006)حضرت سیدنا براء بن عازب رضی اﷲ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں: میں نے حضور نبی کریم ﷺ کو عشا کی نماز میں* "سورۂ وَالتیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ"* پڑھتے ہو ئے سنا تو میں نے آپ ﷺسے اچھی آواز والا کسی کو نہیں سنا۔
آپ ﷺ بڑی خوبصورت آواز میں تلاوتِ قرآنِ پاک فرمایا کر تے تھے اور آپ ﷺ عام لوگوں کے مقابلے میں بہت زیادہ بلند آواز تھے یعنی جب آپﷺ تلاوت فرماتے یا وعظ فرماتے تو آپﷺ کی آواز بہت اونچی ہوا کرتی تھی۔ *"عَنْ أُمِّ مَعْبَدٍ رضی اللہ عنہا، قَالَتْ: وَفِي صَوْتَهِ صَحَلٌ"*۔ حضرت اُم معبد رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ ﷺ کی آواز میں وقار اور دبدبہ تھا۔ (المستدرک 4274) روایت ہےحضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ پڑھتے تو آپ ﷺ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں اور آواز شریف بلندہو جاتی اور آپﷺ کا غضب سخت ہوجاتا (ایسا معلوم ہوتا) کہ آپ ﷺ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں فرماتے ہیں کہ صبح کو تم پر آن پڑے گا یا شام کو اور اپنی کلمے اور بیچ کی انگلی کو ملا کر فرماتے ہیں کہ میں اور قیامت اِن دوکی طرح بھیجا گیا ہوں۔ علامَہ ملا علی قَارِی علیہ رحمۃُ اللہِ الباری فرماتے ہیں: حضور ﷺ کی آواز اس قدر بلند ہوتی کہ جہاں تک آپ ﷺ کی آواز پہنچتی وہاں تک کسی اور کی آواز نہ پہنچتی تھی۔ حضرت سیّدنا ابنِ رواحہ رضِی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ جمعہ کے روز منبر پر تشریف فرما تھے اور ابنِ رواحہ بنی تمیم میں تھے تو آپﷺ نے وہاں حضور ﷺ کی آواز سنی کہ بیٹھ جاؤ تو آپ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اپنی جگہ پر ہی بیٹھ گئے۔ (فیضان ریاض الصالحین حدیث 170)