اسلامک ڈیسک کی جانب سے


ایک دفعہ صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیهم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول الله ﷺ آپ مشرکین کیلئے بد دعا کریں۔ آپﷺ نے فرمایا: " میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا میں تو صرف رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ حضرت طفیل بن عمرو دوسی کو رسول الله ﷺ نے قبیلہ دوس میں دعوت اسلام کے لئے بھیجا تھا۔ انہوں نے خدمت اقدس میں حاضر ہو کر یوں عرض کیا: "قبیلہ دوس ہلاک ہو گیا کیونکہ انہوں نے نافرمانی کی اور اطاعت سے انکار کر دیا ، آپ ﷺ ان کیلئے بددعا کریں ۔ لوگوں کو گمان ہوا کہ آپ ﷺ بد دعا کرنے لگے ہیں مگر آپ ﷺ نے یوں دعا فرمائی؛ *"اللَّهُمَّ اه٘دِ دَوسًا وَ اَنتِ بِهِم" * خدایا اقبیلہ دوس کو ہدایت دے اور ان کو مسلمان کر کے لا۔ جب طائف سے محاصرہ اٹھا لیا گیا تو صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! ہم کو قبیلہ ثقیف کے تیروں نےجلا دیا آپ ان پر بددعا کریں۔ مگر آپﷺ نے یوں دعا فرمائی: *"اللَّهُمَّ اه٘دِ ثَقِیفًا"* خدایا! ثقیف کو ہدایت دے۔ جنگ احد میں آپ ﷺ کا دانت مبارک شہید ہو گیا تھا اور چہرہ مبارک خون آلودہ تھا مگر زبان مبارک پر یہ الفاظ تھے: *"اللَّهُمَّ اغْفِر لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ"* خدایا میری قوم کا یہ گناہ معاف کر دے کیونکہ وہ نہیں جانتے۔ (مشکاۃالمصابیح کتاب المناقب )
وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ