logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

آقا ﷺکی شرافت و خاموشی

آقا ﷺکی شرافت و خاموشی

نبی پاک ﷺ کی ذاتی صفات

حدیث

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ:مَنْ أَرَادَ السَّلَامَةَ فَلْيَصْمُتْ

(مسند یعلٰی حدیث 3595)

ترجمہ

حضرت سیدنا انس بن مالک رضي الله تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو سلامت رہنا چاہتا ہے اُس پر خاموشی لازم ہے۔

حکایت

حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے تین بار یہ بات ارشاد فرمائی: الله عزوجلّ اُس پر رحم فرمائے جو بات کرتا ہے تو فائدہ (یعنی ثواب ) پاتا ہے اور خاموش رہتا ہے تو سلامت رہتا ہے۔ حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ الله ﷺ نے حضرت سیدنا ابوذر غفاری رضی الله تعالى عنه کو شرف ملاقات سے نوازا تو ان سے ارشاد فرمایا : اے ابوذر! کیا میں تمہیں دو ایسی خصلتوں کے بارے میں نہ بتاؤں جو دیگر خصلتوں کے مقابلے میں بدن پر ہلکی اور میزان عمل میں بھاری ہوں؟ عرض کی: یا رسول اللهﷺ ! ضرور بتائیے۔ ارشاد فرمایا: "حسن اخلاق اور طویل خاموشی اپناؤ،اُس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے مخلوق کا کوئی عمل ان جیسا نہیں ۔ حضرت سید نا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ الله عزوجلّ کے پیارے حبیب ﷺ ایک روز گھر سے باہر تشریف لائے اور سواری پر سوار ہوئے تو حضرت سیدنامعاذ بن جبل رضی الله تعالى عنہ نے عرض کی : کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے اپنے مبارک منہ کی طرف اشارہ کر کے ارشاد فرمایا: نیکی کی بات کے علاوہ خاموش رہنا۔ عرض کی: ہم زبان سے جو کچھ بولتے ہیں کیا اس پر اللہ عزوجل ہماری پکڑ فرمائے گا ؟ تو سرکار دو جہان ﷺ نے ان کی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! تمہیں تمہاری ماں روئے! زبانوں کا کہا ہوا ہی لوگوں کو اوندھے منہ جہنم میں گرائے گا۔ پس جو اللہ عزوجل اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کرے یا بری بات سے خاموش رہے۔ پھر ارشادفرمایا: اچھی بات کہو فائدے میں رہو گے اور بُری باتوں سے خاموش رہو سلامت رہو گے۔ حضرت سیدنا انس رضی الله تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نور کے پیکر ﷺ نے ارشاد فرمایا: الله عزوجل نے جب حضرت آدم عليه السلام کو زمین پر اتارا تو جتنا الله عزّوجلّ نے چاہا اتنا عرصہ آپ زمین پر رہے۔ ایک روز آپ کی اولاد نے آپ سے کہا: اے والد محترم ! ہم سے گفتگو کیجئے ۔ آپ عليه السّلام نے اپنے بیٹوں، پوتوں اور پڑ پوتوں کے 40 ہزار کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ اے آدم! گفتگو کم کرو یہ عمل تمہیں میرے قرب (یعنی جنت ) کی طرف لوٹادے گا۔ حضرت سید نا ابو عبداللہ عرشی عليهِ رحمة اللهِ الولی فرماتے ہیں: میں نے حضرت سیدنا عمر بن عبد العزيز عليه رحمة اللهِ العزیز کے پاس آنے والے ایک عالم صاحب کو یہ فرماتے سنا کہ خاموش عالم بولنے والے عالم کی طرح ہے۔ حضرت سیدنا عمر بن عبد العزيز عليه رحمة اللہ العزیز نے فرمایا: میں یہ خیال کرتا ہوں کہ بولنے والا عالم قیامت کے دن خاموش رہنے والے عالم سے افضل ہوگا کیونکہ بولنے والے کا نفع لوگوں کو پہنچتا ہے جبکہ خاموش رہنے والے عالم کو صرف ذاتی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

اہم نکات

  • خاموشی اختیار کرنا ، یعنی صرف ضرورت کے مطابق ہی بولنا اچھا عمل ہے ۔اس سے انسان کی عزت آبرو میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
  • فضول بولنے سے انسان کی عزت میں کمی آتی ہے ۔ اور فضول گوئ مختلف گناہوں کا سبب بنتی ہے۔
آقا ﷺکی شرافت و خاموشی | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya