اسلامک ڈیسک کی جانب سے


غزوات میں حضورﷺ کی ہدایت تھی کہ بچوں عورتوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرنا ۔ آپﷺ کا وجود لڑکیوں کے لئے خصوصیت سے رحمت تھا زمانہ جاہلیت میں بعض عرب افلاس کے ڈر سے لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے چنانچہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کرکہنے لگا کہ ہم اہل جاہلیت و بت پرست تھے اپنی اولاد کو مار ڈالتے تھے۔ میرے ہاں ایک لڑکی تھی میں نے اسے بلا یا وہ خوشی خوشی میرے پیچھے چل پڑی جب میں نزدیک ہی اپنے اہل کے ایک کنوئیں پر پہنچا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کنوئیں میں گرا دیا وہ ابا ابا کہتی تھی۔ یہ سن کر رسول الله ﷺ کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے آپ ﷺنے فرمایا کہ یہ قصہ مجھے پھر سناؤ۔ اس شخص نے دہرایا تو آپ ﷺ اتنا روئے کہ آنسوؤں سے ڈاڑھی مبارک تر ہوگئی۔ یہ رسم بد جس کا روک تھام کسی دنیاوی قوت سے نہ ہوسکا آقاﷺ کی برکت سے نہ صرف عرب بلکہ پوری دنیا سے اٹھ گیا۔ آقا کریم ﷺ نے فرمادیا: *" إِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ وَ وَأَدَ الْبَنَاتِ " * اللہ نے تم پر حرام فرمادیا ماؤں کی نافرمانی اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا۔ (مشکاۃ المصابیح) عورتیں جن چیزوں پر حضورﷺ سے بیعت کیا کرتی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی: *"وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ "* وہ اپنے بچوں کو ہلاک نہ کیا کریں گی۔ (سورۃ الممتحنۃ آیت 12) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت میرے پاس آئی اس کے ساتھ دولڑ کیاں تھیں، اس نے مجھ سے کچھ مانگا ، اس وقت میرے پاس صرف ایک کھجور تھی میں نے وہی اسے دے دی ، اس نے دونوں لڑکیوں میں تقسیم کر دی پھر وہ چلی گئی ۔ رسول اللهﷺ گھر تشریف لائے تو میں نے یہ قصہ آپ ﷺ سے عرض کر دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کے ہاں لڑکیاں ہوں اور وہ ان کی پرورش اچھی طرح کرے تو وہ آتش دوزخ اور اس کے درمیان حائل ہو جائیں گی۔ (سیرت رسول عربی ﷺ ص؛327/328)
وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ