logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

بیوہ عورتوں اور مسکینوں پر شفقت مصطفٰیﷺ

بیوہ عورتوں اور مسکینوں پر شفقت مصطفٰیﷺ

نبی پاک ﷺ کی ذاتی صفات

حدیث

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْوَةَ قَلْبِهٖ فَقَالَ: اِمْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيْمِ وَأَطْعِمِ الْمِسْكِينَ .

مشکاۃ المصابیح، بابالشفقۃ (حدیث5001)

ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اپنے سختی دل کی شکایت کی تو حضور ﷺنے فرمایا یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو اور مسکین کو کھانا کھلاؤ۔

حکایت

یتیموں اور مساکینوں پر آپ ﷺ کی بڑی شفقت تھی چنانچہ یتیم کی خبر گیری کرنے والے کا درجہ بتانے کے لئے آپ ﷺ نے اپنی انگشت (انگلیوں) کے درمیان کچھ کشادگی رکھ کرفرمایا: میں اور یتیم کا متکفل(یتیم کی کفالت کرنے والا) خواہ یتیم اس کے رشتہ داروں میں سے ہو یا اجنبیوں میں سے ہو جنت میں یوں ہوں گے۔ (مشکاۃ المصابیح) حضرت ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نےفرمایاکہ جوشخص محض رب کی رضا کے لئے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہے اس کے لئے ہر بال کے مقابلہ میں جس پر اس کا ہاتھ پھرتا ہے نیکیاں ہیں۔اور جو کسی یتیم لڑکے یا لڑکی کے ساتھ (جواس کی کفالت میں ہو) نیکی کرتا ہے میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی مانند ہوں گے۔( آپﷺ نے دو انگلیوں کو ملا کر اشارہ فرمایا)۔ بیوہ عورتوں اور مساکین کی خبر گیری کا ثواب آپ ﷺ نے یوں بیان فرمایا: بیوہ عورتوں اور مساکین پر خرچ کرنے والا راہ خدا (جہادوحج) میں خرچ کرنے والے کی مانند ہے ۔ (مشکاۃالمصابیح) حضرت انس رضی الله تعالى عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک روز رسول الله ﷺ نے یوں دعاکی؛ *" َاللَہُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينَا وَ آمِتَنِي مِسْكِينًا وَاحْشُرُنِي فِي زُمَرَةِ الْمَسَاكِينَ يَوْمَ الْقِيمَةِ"* خدایا! مجھے مسکین زندہ رکھ اور مجھے مسکین موت دے اور قیامت کے دن مسکینوں کے گروہ میں میرا حشر کر۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا نے عرض کیا: یا رسول الله ﷺ یہ کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ دولت مندوں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ اے عائشہ رضی اللہ تعالی عنها، کسی مسکین کو اپنے دروازے سے نامراد نہ پھیرنا گویا آدھی کھجور کیوں نہ ہو۔ اے عائشہ، مسکینوں سے محبت رکھ اور ان کو اپنے سے نزدیک کر خدا تجھے قیامت کے دن اپنے سے نزدیک کرے گا۔ (جامع ترمذی حدیث 2352)

اہم نکات

  • اس حکایت سے یہ معلوم ہوا کہ غریبوں اور مساکینوں سے ہمدردی قرب الٰہی کا ذریعہ ہے ۔اور اسی میں رب کی رضا ہے۔
  • اسی طرح انسان کو خود بھی عاجزی اپنانی چاہئے ضرورت سے زیادہ خرچ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ کل بروز قیامت ایک ایک چیز کا حساب ہوگا۔
بیوہ عورتوں اور مسکینوں پر شفقت مصطفٰیﷺ | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya