logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

غلاموں  پر شفقت مصطفیٰﷺ

غلاموں پر شفقت مصطفیٰﷺ

نبی پاک ﷺ کی ذاتی صفات

حدیث

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ لَاءَمَكُمْ مِنْ مَمْلُوكِيكُمْ، فَأَطْعِمُوهُ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَاكْسُوهُ مِمَّا تَكْسُونَ، وَمَنْ لَا يُلَائِمُكُمْ مِنْهُمْ فَبِيعُوهُ، وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللّٰهِ".

مشکاۃالمصابیح، باب النفقات وحق المملوک(حدیث 3369)

ترجمہ

روایت ہے حصرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲﷺ نے کہ تمہارے غلاموں میں سے جو تمہارے مزاج کے مطابق ہو ، پس تم،اسے وہ کھلاو جو تم کھاتے ہو اور وہ پہناو جو تم پہنتے ہو اور جو غلام تمہارے مزاج کے مطابق نہ ہو اسے فروخت کردو اور (بلاوجہ) اللہ کی مخلوق کو تکلیف نہ دو۔

حکایت

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے غلام کو مار رہا تھا کہ میں نے اپنے پیچھے سے یہ آواز سنی : ابو مسعود ! جان لو کہ تم کو جس قدر اس غلام پر اختیار ہے اس سے زیاد ہ خدا کو تم پر اختیار ہے ۔ میں نے مڑکر جودیکھا تو رسول الله ﷺ تھے میں نے عرض کیا: یا رسول الله ﷺ میں نے اس کو رضائے خدا کے لئے آزاد کر دیا۔ آپﷺ نے فرمایا ” دیکھو! اگر تم ایسا نہ کرتے تو دوزخ کی آگ تم کو جلاتی۔ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک عجمی غلام کو برا بھلا کہا اس نے رسول اللہ ﷺسے شکایت کردی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ابوذر! تم میں جاہلیت ہے، وہ تمہارے بھائی ہیں، خدا نے تم کو ان پر فضیلت دی ہے، ان میں سے جو تمہارے موافق نہ ہو اسے بیچ دو، اور خلق خدا کو عذاب نہ دو۔ حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص اپنے غلام کے منہ پر تھپڑ مارے اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے۔ حضرت سوئید بن مقرن بیان کرتے ہیں کہ ہم سات بھائی تھے، ہمارے ہاں صرف ایک خادمہ تھی، ہم میں سے ایک نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا، رسول اللہﷺ نے اس سے کہا کہ خادمہ کو آزاد کر دو انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں صرف یہی ایک خادمہ ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ وہ خدمت کرتی رہے یہاں تک کہ بے نیاز ہو جائیں جب ضرورت نہ ر ہے تو اسے آزاد کر دیں۔ (سیرت رسول عربیﷺص؛332)

اہم نکات

  • اس حکا یت سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملا کہ ملازم پر بھی ہمیں شفقت کرنی چایئے اس سے پیار محبت سے پیش آنا چاہئے ۔
  • ملازم چاہے گھر کا ہو یا کمپنی وغیرہ کا اس کا خیال رکھا جائے ، اس سے ضرورت سے زیادہ کا م نہ لیا جائے۔اس پر سختی نہ کی جائے۔
  • اور ان کے معا ملے میں رب سے ڈرتے رہنا چاہئے ،کہ بروز قیامت ان کے حوالے سے بھی سوال ہوگا۔
غلاموں پر شفقت مصطفیٰﷺ | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya