اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ جَابِرٍ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہ وَ آلہِ وَسَلَّم مَکَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَائُ۔
شمائل ترمزی (حدیث 107)حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ فتح مکہ میں جب شہر میں داخل ہوئے تو حضور اقدس ﷺ کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا۔
حضرت سید نا عبد الله بن محمد بن جعفر أصبهانی روایت نقل فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت سید نا علی المرتضی کرم الله تعالى وجهه الكریم کو (اپنا) عمامہ پہنایا جسے سحاب کہا جاتا تھا۔ حضرت سیدنا علی المرتضى كرم الله تعالى وجهه الكريم وہی عمامہ شریف سجائے حاضر بارگاہ ہوئے تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام عليهم الرضوان سے فرمایا، *هذاعَلِيٌّ قَد أَقْبَلَ فِي السَّحَابِ* یعنی یہ علی ہیں جو کہ سحاب میں آئے ہیں۔ (اخلاق النبی و آدابه، حدیث: 297) حضور ﷺ کبھی عمامہ کا شملہ چھوڑا کرتے اور کبھی نہ چھوڑا کرتے۔ شملہ اکثر دونوں شانوں کے بیچ میں اور کبھی شانہ مبارک پر پڑا رہتا۔ بعض وقت عمامہ میں تحسنیک فرماتے۔ یعنی دستار مبارک کا ایک بینچ بائیں جانب سے ٹھوڑی مبارک کے نیچے سے گزار کر سر مبارک پر لپیٹ لیتے۔ عمامہ اکثر سیاہ رنگ کا ہوتا تھا۔ عمامہ کے نیچے سر سے لپٹی ہوئی تو پی ہوا کرتی ۔ اونچی ٹوپی آپ ﷺ نے استعمال نہیں فرمائی۔ حضور ﷺ کا عمامہ سات ہاتھ کا تھا اور شملہ ایک بالشت سے کچھ زیادہ، حضرت امیر معاویہ اورحضرت ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہما اکثر سیاہ عمامہ باندھتے تھے، اسی سنت کی بنا پر حضور ﷺ نے عبدالرحمان ابن عوف کے سیاہ عمامہ باندھا تھا۔ حضورﷺ کا عمامہ سات ہاتھ کا تھا اور شملہ ایک بالشت سے کچھ زیادہ، ہوتی تھی۔ (مراۃالمناجیح حدیث 1410) *حضور ﷺ کے عمامہ کا رنگ: * سرکار ﷺ مختلف اوقات میں مختلف رنگوں کے عمامے زیب سر فرمایا کرتے تھے۔ جن میں سے کچھ کا ذکر کتب احادیث وسیر میں موجود ہے چنانچہ شیخ الحدیث ، خلیفہ مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مولانا عبدالمصطفی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی نقل فرماتے ہیں: رسول الله آﷺ کا عمامه سفید، سبز، زعفرانی ، سیاہ رنگ کا تھا۔ (سیرت مصطفیٰ ص581) حضرت علامہ مولانا الحافظ شاہ محمد شفیع اوکاڑوی عليه رحمة اللهِ القوی فرماتے ہیں: حضور ﷺ نے عمامہ شریف اکثر سفید، کبھی سیاہ اور کبھی سبز بھی استعمال فرمایا ہے۔ ( ذکر جمیل ص 407) نبی پاک ﷺ کے مختلف رنگ کے عماموں میں ایک حرقانی رنگ کا عمامہ شریف بھی تھا۔ یہ خالص سیاہ رنگ کا نہیں تھا بلکہ جیسے کسی چیز کو آگ سے جلا دیا جائے تو اس کا رنگ قدرے سیاہی مائل ہو جاتا ہے ۔ آپ ﷺ کا یہ عمامہ مبارک بھی ایسا ہی سیاہ تھا جیسے آگ سے جلی ہوئی شے کا رنگ ہوتا ہے۔ (سنن نسائ حدیث5353) آپ ﷺ کا زرد عمامہ شریف باندھنا بھی کئی احادیث سے ثابت ہے، مرضِ وصال آپ ﷺکے سرمبارک پر عمامہ زرد تھا۔ (شمائل ترمذی حدیث 129) اسی طرح حضرت سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ درِدولت سے باہر تشریف لائے جب کہ لوگ زیارت کے لیے جمع تھے اور آپ ﷺ (کی طبیعت مبارک) کے متعلق پوچھ رہے تھے، پس آپ ﷺ کپڑا لپیٹے یوں تشریف لائے کہ آپ ﷺ کی چادر مبارک کے دونوں کنارے آپ ﷺ کے مبارک کندھوں سے لٹک رہے تھے اور سرِاقدس پر سفید عمامہ شریف سجا رکھا تھا۔ (طبقات ابن سعد، 193) مختلف رنگ کے عمامے پہننا صحابہ سے بھی ثابت ہے چنانچہ حضرت سیّدنا سلیمان بن ابو عبداللہ تابعی رحمۃ اللہِ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ مہاجرین اولین (صحابہ ) سیاہ، سفید، سرخ، سبز اور زرد رنگ کے سوُتی عمامے باندھا کرتے تھے۔