logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

حضور ﷺ کا بالوں پر خضاب (رنگ ) لگانا

حضور ﷺ کا بالوں پر خضاب (رنگ ) لگانا

نبی پاک ﷺ کے شب و روز

حدیث

عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَيْتُ شَعَرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مَخْضُوبًا۔

(شمائل ترمذی حدیث 47)

ترجمہ

حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں، کہ میں نے حضور اقدس ﷺ کو بالوں کو خضاب کیا ہوا (یعنی رنگاہوا) دیکھا۔

حکایت

روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی اکرمﷺ کے بال مبارک رنگے ہوئے تھے، جبکہ صحیح مسلم کی روایت جو سیدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے خضاب استعمال نہیں فرمایا ، جیسا کہ ابن سیرین علیہ رحمہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا نبی ﷺ نےخضاب لگایا تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: آپﷺ کے بال مبارک اس حالت کو پہنچے ہی نہیں تھے کہ انہیں خضاب لگایا جاتا، یعنی بہت کم بال ایسے تھے جو سفید تھے۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ کے بال مبارک خضاب کی مقدار کو نہیں پہنچے تھےفرماتے ہیں: کہ اگر میں آپ کے سرمبارک کے سفید بال گننا چاہتا تو گن سکتا تھا، وہ صرف چند بال تھے دونوں طرح کی روایات کو دیکھتے ہوئے امام نووی علیہ رحمہ کی تطبیق مناسب معلوم ہوتی ہے، وہ فرماتے ہیں: پسندیدہ بات یہ ہے کہ کبھی کبھی آپ ﷺ نے اپنے بالوں کو رنگا ہے، اکثر اوقات نہیں رنگے تو جس نے جو کچھ دیکھا وہ بیان کر دیا اور یہ تاویل زیادہ مناسب ہے۔ (مراۃ المناجیح ) مسند امام احمد میں حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: *غيروا الشيب، ولا تقربوه السواد* ترجمہ: سفیدی بدل دو، اور سیاہ کے قریب مت جاؤ۔ (مسند امام احمد ،رقم الحدیث 13588) اوپر حدیث مبارک کے تحت عمدۃ القاری میں فرمایا: *”والإذن فيه مقيد بغير السواد؛ لما روى مسلم من حديث جابر أنه صلى الله عليه وسلم قال: غيروه وجنبوه السواد“ * ترجمہ:حدیث پاک میں جو اجازت دی گئی وہ کالے خضاب کے علاوہ کے ساتھ مقید ہے ؛کیونکہ امام مسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت فرمائی کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا” اس ( بالوں کے سفید رنگ)کو تبدیل کردو، اور بال کالے رنگ سے بچاؤ۔“ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري،ج16،ص46)

حضور ﷺ کا بالوں پر خضاب (رنگ ) لگانا | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya