اسلامک ڈیسک کی جانب سے


َعَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: كَانَ يَكُونُ فِي مَهْنَةِ أَهْلِهٖ تَعْنِي خِدْمَةَ أَهْلِهٖ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ.
صحیح بخاری (حدیث 5363)روایت ہے حضرت اسود سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے پوچھا کہ نبی پاک ﷺ اپنے گھر میں کیا کرتے تھے، آپ نے کہا کہ اپنے گھر کے کام کاج میں مشغول رہتے تھے یعنی گھر والوں کا کام کرتے تھے ،پھر جب نماز کا وقت آجاتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:رسول اللہ ﷺ اپنے کپڑوں کو سی لیتے تھے، جوتوں کی مرمت کر لیتے تھے، اور وہ سب کام کر لیتے تھے جو مرد اپنے گھروں میں کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل (گھر والوں) کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے اہل کے لیے سب سے بہتر ہوں۔ (صحیح بخاری5676) ایک روایت میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہﷺ اپنے کپڑوں کو سی لیتے، بکری کا دودھ نکالتے اور اپنے کام کرتے تھے۔ ابن حبان کی ایک روایت میں ہے کہ؛ حضورﷺ اپنے جوتے کو خود ٹانکا لگا لیتے اور پھٹا ہوا ڈول درست کر لیتے تھے ۔ حضورِ انور ﷺ گھر کے کسی کام میں تکلّف نہ فرماتے، اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ گوشت کے ٹکڑے کرلیا کرتے، بکری کادودھ دوہ لیتے، اپنے کپڑوں کی نگہداشت فرماتے، انہیں دھولیتے، کپڑوں میں پیوند لگا لیتے اور اپنی نعلین شریفین گانٹھ لیتے، سواری کے جانور کو باندھ لیتے، اسے چارا وغیرہ ڈال لیتے تھے۔ معلوم ہوا کہ گھر میں کام کرلینا صالحین کا طریقہ ہے، لہٰذا کسی جائز کام میں تکلُّف نہیں ہونا چاہئے۔ (مسند احمد،ج 9،ص386، حدیث:24685،)