اسلامک ڈیسک کی جانب سے


وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ لَهٗ شَعْرٌ فَلْيُكْرِمْهُ۔
(اشعۃ اللّمعات ص617)روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کے بال ہوں وہ ان کا احترام کرے یعنی انہیں دھوئے ، تیل لگائے اور کنگھی کرے۔
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میرے بال جمہ ہیں تو کیا میں ان میں کنگھی کروں رسولﷺ نے فرمایا ہاں اور ان کی خدمت کرو فرماتے ہیں کہ ابوقتادہ بہت دفعہ ان میں ایک دن میں دوبار تیل لگاتے تھے رسول اللہﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ ہاں اور انکی خدمت کرو۔ (مراۃ المناجیح حدیث 4483) روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سر میں تیل اور ڈاڑھی میں کنگھی بہت استعمال فرماتے۔ (مراۃ المناجیح حدیث 4445) حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:انہوں نے کہا کہ:یا رسول اللہ ﷺ!میرے پاس زیادہ بال ہیں تو کیا میں کنگھا کروں؟آپ ﷺنے فر مایا:ہاں! اس کی عزت کرو۔حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ،حضور ﷺکی اس فر مان کی وجہ سے کبھی دن میں دو مرتبہ تیل لگایا کرتے تھے اور کنگھا کرتے تھے۔ [شر ح السنۃ،حدیث: 3164] ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺنے روزانہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا۔ (ابوداؤد،حدیث : 4159) مقصد یہ ہے کہ مردوں کو بناؤسنگار میں مشغول نہیں رہنا چاہئے۔یہ مطلب نہیں ہے کہ بال بکھرے ہوں اس کے باوجود کنگھا نہ کرے کیو نکہ حضور ﷺ نے خود ایسے شخص کو نا پسند فرمایا جو کنگھی نہیں کرتا ،تیل نہیں لگاتا اور بال بکھیرے گندہ صورت رہتا ہے۔