اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبْعَةً لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلا بِالْقَصِيرِ حَسَنَ الْجِسْمِ وَکَانَ شَعَرُهُ لَيْسَ بِجَعْدٍ وَلا سَبْطٍ أَسْمَرَ اللَّوْنِ إِذَا مَشَی يَتَکَفَّأُ۔
شمائل ترمذی (حدیث 02)سیدنا انس بن مالک رضی اللہ فرماتے ہیں: نبی اکرم ﷺدرمیانے قد والے تھے نہ ہی بہت لمبے تھے اور نہ بہت پست قامت بلکہ آپ ﷺکا جسم مبارک نہایت خوبصورت تھا آپﷺ کے بال نہ بہت زیادہ گھنگھریالے تھے اورنہ ہی بالکل سیدھے، آپ کا رنگ مبارک گندمی تھا، جب آپ چلتے تو آگے کو جھکے ہوئے چلتے۔
اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں : اللہ کے حبیب ﷺ نہ تو بہت لمبے تھے اور نہ چھوٹے قد والے، جب اکیلے چلتے تو درمیانی قد والے نظر آتے تھے۔ اگر آپ کے ساتھ کوئی لمبے قد والا شخص چلتا تو آپﷺ اس سے بلند نظر آتے۔ بعض اوقات دو لمبے قد والے آدمی آپ کے ساتھ چلتے تو آپ ﷺ ان دونوں سے بلند نظر آتے، پھر جب وہ دونوں جدا ہوجاتے تو آپ ﷺدرمیانی قد والے نظر آتے تھے۔ (تاریخ ابن عساکر 365) والد اعلٰی حضرت ،حضرت علامہ مولانا مفتی نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: جب آپ ﷺ کھڑے ہو تے یا چلتے، تو آپ ﷺ کا قدِ زیبا سب سے زیادہ بلند نظر آتا اور جب مَسند پر جلوہ فرماتے تو تمام جماعت میں سَرمبارک اونچا معلوم ہوتا۔ کسى طرح سے بھی اللہ نے آپ ﷺ کا ہمسر (یعنی برابر) پىدا نہ کیا۔ (زرقانی علی المواھب ص181) شیخُ الحدیث والتفسیر حضرت علّامہ مولانا عبدالمصطفیٰ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کا اتفاق ہے کہ آپ ﷺ مِیانہ قد (یعنی درمیانے قد والے)تھے لیکن یہ آپ ﷺکی معجزانہ شان ہے کہ میانہ قد ہونے کے باوجود اگر آپ ہزاروں انسانوں کے مجمع میں کھڑے ہوتے تھے تو آپ ﷺکا سر مبارک سب سے زیادہ اونچا نظر آتا تھا۔ (سیرت مصطفٰی ص567) اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں. *" ترا قد مبارک گلبن رحمت کی ڈالی ہے" "اسے بو کر ترے رب نے بنا رحمت کی ڈالی ہے"*