اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہ وَ آلہِ وَسَلَّم يُکْثِرُ الْقِنَاعَ کَأَنَّ ثَوْبَهُ ثَوْبُ زَيَّاتٍ۔
(شمائل ترمذی حدیث 119)حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ اپنے سر مبارک پر کپڑا اکثر رکھا کرتے تھے اور حضور اقدس ﷺ کا یہ کپڑا چکناہٹ کی وجہ سے تیل ہی کا کپڑا معلوم ہوتا تھا۔
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سر میں تیل اور ڈاڑھی میں کنگھی بہت استعمال فرماتے ،اور قناع کا استعمال زیادہ کرتے گویا آپﷺ کا کپڑا تیل والوں کا کپڑا ہی تھا۔ (مراۃالمناجیح حدیث 4445) *قناع کسے کہتے ہیں:* قناع وہ کپڑا جو ٹوپی کے نیچے پہنا جاے تاکہ تیل ٹوپی و عمامہ میں نہ لگے وہ کپڑا ہی تیل میں تر رہے یعنی چونکہ آپ ﷺ سر میں تیل زیادہ استعمال کرتے تھے اس لیے ٹوپی شریف کے نیچے ایک کپڑا تیل سے بچاؤ کے لیے استعمال فرماتے تھے۔ یعنی یہ قناع تیل میں ایسا بھیگا رہتا تھا جیسے تیل والے کے کپڑے تیل سے تر رہتے ہیں دوسرے کپڑے مراد نہیں کیونکہ حضور ﷺ کے کپڑے بہت صاف رہتے تھے آپ ﷺ سفید کپڑے پسند فرماتے تھے جو صاف ہوں۔ (مراۃالمناجیح)