اسلامک ڈیسک کی جانب سے


ہجرت سے پہلے مکہ میں کفار نے مسلمانوں کو اس قدر اذیت دی کہ ان کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا۔ چنانچہ حضرت خباب بن الارت بیان کرتے ہیں؛ کہ ہمیں مشرکین سے شدت وسختی پہنچی۔ میں رسول الله ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپﷺ سر مبارک کے نیچے چادر رکھ کر کعبہ کے سائے میں لیٹے ہوئے تھے۔ میں نے عرض کیا: آپ مشرکین پر بدعا کیوں نہیں کرتے ؟ یہ سن کر آپ ﷺاٹھ بیٹھے، چہرہ مبارک سرخ ہوگیا تھا۔ فرمایا تم سے پہلے جولوگ گزرے ہیں ان پر لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتیں جس سے گوشت پوست سب علیحدہ ہو جاتا اور ان کے سر پر آرے رکھے جاتے اور چیر کر دو ٹکڑے کر دیئے جاتے ۔ مگر یہ اذیتیں ان کو دین سے مخالف نہ کرسکتی تھیں ۔ اللہ تعالیٰ دین اسلام کوکمال تک پہنچائے گا یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک سفر کرے گا اور اسے خدا کے سوا کسی کا ڈر نہ ہوگا۔ (صحیح بخاری) حضور نبی رحمت شفیعِ اُمت ﷺ کا فرمانِ جنت نشان ہے کہ اللہ عز وجل ارشاد فرماتا ہے: جب میں اپنے کسی بندے کو اُس کے جسم، مال یا اولاد کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کروں ، پھر وہ صبر جمیل کے ساتھ اُس کا استقبال کرے تو قیامت کے دن مجھے حیا آئے گی کہ اس کے لیے میزان قائم کروں یا اس کا نامۂ اعمال کھولوں۔ *صبر جمیل کیا ہے:* صبر جمیل یعنی سب سے بہترین صبر یہ ہے کہ مصیبت میں مبتلا شخص کو کوئی نہ پہچان سکے، اس کی پریشانی کسی پر ظاہر نہ ہو۔ غزوہ احد ( شوال ۳ھ) میں کفار نے آپﷺ کا دانت مبارک شہید کر دیا اور سر اور پیشانی مبارک بھی زخمی کر دی اس حالت میں آپﷺ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ تھے۔ *"رَبِّ اغْفِرْ قَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَایَعْلَمُوْن"* خدایا! میری قوم کا یہ گناہ معاف کر دے کیونکہ وہ نہیں جانتے ۔ پیارے آقاﷺ کی مقَدّس اولاد (تین صاحبزادگان اورچار صاحبزادیوں) میں سے حضرت سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے علاوہ تمام آپ ﷺ کے سامنے ہی خالقِ حقیقی سے جاملیں۔ مگر صبر مُصطفٰی کا نَظارہ دیکھا گیا کہ آپﷺ نے کسی بھی شہزادے یا شہزادی کی وفات پر اللہ پاک سے شکوہ نہ کیا بلکہ اِنتہائی صبر کے ساتھ ان تمام صَدْمات کو برداشت فرمایا۔ (سیرت رسول عربیﷺ)
َ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ۔