logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

حضور ﷺ کا وعدہ نبھانا

حضور ﷺ کا وعدہ نبھانا

نبی پاک ﷺ کی ذاتی صفات

حدیث

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ: «لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهٗ وَلَا دِيْنَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ»۔

(مشکاۃ المصابیح حدیث 35)

ترجمہ

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے کہ یہ بہت کم تھا کہ حضور ﷺ ہمیں اس کے بغیر وعظ فرمائیں کہ جو امین نہیں اس کا ایمان نہیں جو پابند وعدہ نہیں اس کا دین نہیں۔

حکایت

حضرت عبداللہ بن ابوحمساء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نزول وحی اور اعلانِ نبوت سے قبل میں نے حضور نبی کریم ﷺ سے خریدوفروخت کا ایک معاملہ کیا مگر اس وقت پوری رقم ادا نہ کرسکا تو میں نے وعدہ کیا کہ باقی رقم ابھی آکر ادا کرتا ہوں۔ اتفاق سے تین دن تک مجھے اپنا وعدہ یاد نہ آیا۔ تیسرے دن جب میں اس جگہ پہنچا جہاں آنے کا وعدہ کیا تھا تو آپﷺ کو اسی مقام پر اپنا منتظر پایا۔ میری اس وعدہ خلافی سے آپﷺ کے ماتھے پر ذرا بھی بل نہیں آیا، بس اتنا ہی فرمایا کہ تم کہاں تھے؟ میں اس جگہ تین دن سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ (سنن ابی داود،4/342 ،حدیث:4836) حدیث مبارکہ سے جہاں یہ واضح ہوا کہ ظہور نبوت سے قبل بھی حضور نبی کریمﷺ بے مثل صداقت کے حامل تھے وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ ان صاحب نے اگرچہ بقایا رقم کی بروقت ادائیگی کا وعدہ بھلا دیا مگر ہادی دو جہاںﷺ نے اسی مقام پر ملنے کاجو وعدہ فرمایا اسے ضرور پورا کیا۔ یہاں یہ یاد رہے کہ آپ ﷺ کا وہاں ٹھہرنا محض اپنا مال لینے کے لئے نہ تھا بلکہ اپنا وعدہ پورا کرنے کے لئے تھا،مال تو ان کے گھر جاکر بھی وصول کیا جاسکتا تھا۔ (مراٰۃ المناجیح،6/491) *وعدہ خلافی سے مراد:* وعدہ کرتے وقت اگر اسے پورا کرنے کی نیت ہو اور کسی وجہ سے پورا نہ کرسکے تو یہ وعدہ خلافی نہیں کہلائے گی وعدہ خلافی اسی وقت کہلائے گی کہ جب وعدہ کرتے وقت ہی اسے پورا نہ کرنے کا ارادہ ہو۔ ابو رافع ایک قبطی غلام تھے جو مکہ میں رہا کرتے تھے ان کا بیان ہے کہ قریش نے مجھے سفیر بنا کر رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا۔ جب میں نے آپ ﷺ کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی صداقت جاگزیں ہوگئی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول الله ﷺمیں واللہ کبھی بھی ان کے پاس لوٹ کر نہ جاؤں گا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں عہد شکنی نہیں کرتا اور نہ قاصدوں کو اپنے پاس روکتا ہوں تم اب لوٹ جاؤ اگر وہاں بھی تمہارے دل میں صداقت اسلام رہی تو واپس آجانا۔ ابو رافع کا قول ہےکہ میں چلا گیا پھر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ایمان لایا۔ (سیرت رسول عربیﷺ ص370) حضورِ اکرمﷺ نے حالتِ جنگ میں بھی عہد کو پورا فرمایا چنانچہ غزوۂ بدر کے موقع پر مسلمانوں کی افرادی قوت کم اور کفّار کا لشکر تین گنا سے بھی زائد تھا، حضرت حذیفہ اور حضرت حُسَیْل رضی اللہ تعالٰی عنہما دونوں صحابی کہیں سے آرہے تھے کہ راستے میں کفار نے دھر لیا اور کہا: تم محمد عربیﷺ کے پاس جارہے ہو؟ جب ان دونوں حضرات نے شریکِ جنگ نہ ہونے کا عہد کیا تب کفار نے انہیں چھوڑا، آقا علیہ الصلٰوۃ و السلام نے سارا ماجرا سن کر دونوں کو الگ کردیا اور فرمایا: ہم ہر حال میں عہد کی پابندی کریں گے، ہمیں صرف اللہ عزوجلّ کی مدد درکار ہے۔ (مسلم، ص763، حدیث:4639) *نفاق کی علامت:* حضرت سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : منافق کی تین علامات(نشانیاں) ہیں : (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ (2)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے۔ (3) جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔ (فیضان ریاض الصالحین حدیث 199)

اہم نکات

  • کسی سے کوئ وعدہ کیا جائے تو اسے لازمی پورا کیا جائے ۔وعدہ کرکے اسے پورا نہ کرنا منافق کی علامت میں سے ہے۔
  • اور اس نیت سے کسی سے وعدہ کرنا کہ پورا نہیں کرونگا ایسا کرنا سخت گناہ ہے۔
حضور ﷺ کا وعدہ نبھانا | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya