logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

حضور ر ﷺکا  ذاتی انتقام نہ لینا

حضور ر ﷺکا ذاتی انتقام نہ لینا

نبی پاک ﷺ کی اخلاقی صفات

حدیث

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ بِهَا۔

(صحیح بخاری حدیث 3560)

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے بد لہ نہیں لیا ۔ لیکن اگر اللہ کی حرمت کو کوئی توڑ تا تو آپ اس سے ضرور بدلہ لیتے تھے ۔

حکایت

نبوت کے دسویں سال حضور ﷺ قبیلہ ثقیف کو دعوت اسلام دینے کے لئے طائف تشریف لے گئے مگر بجائے ﷺآمادہ ہونے کے انہوں نے آپﷺ کو اس قدر اذیت دی کہ نعلین مبارک خون آلودہ ہو گئے ۔ جب آپ ﷺوہاں سے واپس ہوئے تو راستے میں پہاڑوں کے فرشتے نے حاضر خدمت ہو کر عرض کی: یامحمد ﷺ! آپ جو چاہیں حکم دیں اگر اجازت ہو تو طائف کے دو مضبوط اور اونچے پہاڑوں کو ان پر الٹ دوں ۔ اس کے جواب میں آپﷺ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ وہ ہلاک ہو جائیں بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں سے ایسے بندے پیدا کرے گا جو صرف خدا کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں گے۔ (سیرت رسول عربی ﷺ ص294) حدیث اور سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کسی سے اپنی ذات کا بدلہ نہیں لیا بلکہ آپ ﷺ زیادتی کرنے والوں کے عمل پر حِلم اور صبر کا مظاہرہ کرتے اوران سے در گزر فرماتے حتّٰی کہ جان کے دشمنوں کو بھی معاف کر دیا کرتے تھے، چنانچہ یہاں اِختصار کے ساتھ اس کی چار مثالیں ملاحظہ ہوں : (1) لبید بن اعصم یہودی نے جب آپ ﷺ پر جادو کیا تو اس کے بارے میں معلوم ہوجانے کے باوجود بھی اسے کوئی سزا نہ دی۔ (2) یہودی عورت زینب نے گوشت میں زہر ملا کر آپ ﷺ کو کھلا دیا تو اپنی ذات کی وجہ سے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا البتہ جب اس زہر کے اثر سے ایک صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ انتقال فرما گئے تو اس عورت پر شرعی سزا نافذ فرمائی ۔ (3) غورث بن حارث نے آپ ﷺکو شہید کرنے کی کوشش کی تو آپﷺ نے اس پر غالب آ جانے کے باوجود اسے معاف کر دیا۔ (4) کفارِ مکہ نے وہ کونسا ایساظالمانہ برتاؤ تھا جو آپﷺ کے ساتھ نہ کیا ہو لیکن فتحِ مکہ کے دن جب یہ سب جَبّارانِ قریش مہاجرین و اَنصار کے لشکروں کے محاصرہ میں مجبور ہو کر حرمِ کعبہ میں خوف اور دہشت سے کانپ رہے تھے اور انتقام کے ڈر سے ان کے جسم کا رُوآں رُوآں لرز رہا تھا تو رسولِ رحمت ﷺ نے ان مجرموں کو یہ فرما کر چھوڑ دیا کہ جاؤ آج تم سے کوئی مُؤاخذہ نہیں ،تم سب آزاد ہو۔ (تفسیر صراط الجنان سورۃالقلم آیت03)

اہم نکات

  • اپنی ذات پر کئے جانے والے ظلم کا بدلہ لینا جائز ہے لیکن معاف کردینا افضل ہے۔
  • جہاں شعائر اسلام ، یا دینی مقدسات کی توہین کی جاۓ وہاں شرعی اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوۓ اپنی حیثیت کے مطابق انتقام لینا چاہیے اس وقت خاموشی اختیار کرنا درست نہیں۔
حضور ر ﷺکا ذاتی انتقام نہ لینا | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya