logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

حضورﷺ کا زیارت قبور کرنا

حضورﷺ کا زیارت قبور کرنا

نبی پاک ﷺ کے شب و روز

حدیث

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُوْرٍ بِالْمَدِيْنَةِ فَاَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَااَهْلَ القُبُوْرِ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ،اَنْتُمْ سَلَفُنَا، وَنَحْنُ بِالْاَثَرِ۔

فیضان ریاض الصالحین (حدیث 584)

ترجمہ

حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ مدینہ طیِّبَہ کی قبروں کے پاس سے گزرے تواُن کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا:” اے قبر والو! تم پر سلامتی ہو اللہ تعالیٰ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے تم ہم سے پہلے آگئے اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں۔

حکایت

فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے۔ *"كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِفَزُوُرُوْهَافَإِنَّهَاتُزَهِّدُفِي الدُّنْيَا وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ"* میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا ،اب ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ اس سے دنیا میں بے رغبتی اور آخرت کی یاد پیدا ہوتی ہے۔ (ابن ماجہ حدیث 1571) اس حدیثِ پاک کے تحت حضرت علامہ عبد الرؤف مناوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں:جس شخص کا دل سخت ہوگیا ہو زیارتِ قبور اس کے لئے ایک عمدہ دوا ہے۔ (فیض القدیر ص71) حضرت فاطمہ خزاعیہ رضی اللہ تعالٰی عنہِا کا بیان ہے کہ میں ایک دن اُحد کے میدان سے گزر رہی تھی حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قبر کے پاس پہنچ کر میں نے عرض کیا: *"اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَاعَمَّ رَسُوْلِ اللّٰہ"* “اےرسول اللہ ﷺکے چچا !آپ پر سلام ہو تو میرے کان میں یہ آواز آئی *"وَعَلَیْکِ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ وَبَرَکَاتُہٗ"* یعنی تم پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔ سرکارِ مدینہ ﷺ شہدائے احد کی مبارک قبروں کی زیارت کو تشریف لے جاتے اور ان کے لئےسلام فرماتے:*"سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ"* (تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبرکیا تو آخرت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے) حضراتِ ابوبکر و عمر اور عثمانِ غنی رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کا بھی یہی معمول تھا۔ (در منشور ص 640) سرکارِ نامدارﷺ کا فرمانِ مشکبار ہے: جوشخص ہر جمعہ کو اپنے والدین یا ان میں سے ایک کی قبرکی زیارت کرے، اُس کی مغفرت کردی جائے گی اور اُسے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے والا لکھ دیا جائےگا۔ (شعب الایمان،ج6، ص201، حدیث:7901) یہاں جمعہ سے مرادیا تو جمعہ کا دن ہے یا پورا ہفتہ، بہتر ہے کہ ہر جُمُعَہ کے دن والدین کی قبورکی زیارت کیا کرے،اگر وہاں حاضری میسرنہ ہوتو ہر جمعہ کوان کے لئےایصالِ ثواب کیا کرے۔ (مراٰۃ المناجیح،ج2،ص526) مدینے کے سلطان ﷺ کافرمانِ شفاعت نشان ہے: جو شخص قبرِستان میں جاکر سورۃفاتِحہ، سورۃاِخلاص اور سورۃتکاثُر پڑھے، پھر یہ کہے: اے اللہ! میں نے جو کچھ قراٰن پڑھا اس کا ثواب اِس قبرستان کے مومن مردوں اور عورَتوں کو پہنچا تو وہ سب (قِیامت کے دن) اس (ایصالِ ثواب کرنے والے) کی شفاعت کریں گے۔ (شرح الصدور ص311)

اہم نکات

  • زیارتِ قبورسنت ہے نیز قبروں کی زیارت کرنے سے فکر آخرت پیدا ہوتی اور دنیا سے بے رغبتی حاصل ہوتی ہے۔
  • جو ہر جمعہ کو اپنے ماں باپ کی قبر کی زیارت کرے گا اس کی مغفرت کی بشارت ہے۔
حضورﷺ کا زیارت قبور کرنا | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya