اسلامک ڈیسک کی جانب سے


حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ طَهْمَانَ قَالَ أَخْرَجَ إِلَيْنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ نَعْلَيْنِ جَرْدَاوَيْنِ لَهُمَا قِبَالانِ فقَالَ فَحَدَّثَنِي ثَابِتٌ بَعْدُ عَنْ أَنَسُ أَنَّهُمَا کَانَتَا نَعْلَيِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہ وَ آلہِ وَسَلَّم۔
شمائل ترمذی (حدیث 73)حضرت عیسیٰ بن طہمان سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ہمیں دو جوتے نکال کر دکھائے ان پر بال نہیں تھے۔ راوی کہتے ہیں مجھ سے حضرت ثابت نے بیان کیا اور ان کو حضرت انس نے بتایا کہ وہ دونوں حضور ﷺ کے نعلین شریف تھے۔
علامہ ابوسعد رحمہ الله فرماتے ہیں کہ: ایک مرتبہ ایک چھوٹا انصاری لڑ کا جناب رسول اللہ ﷺ کے راستے میں جا بیٹھا چنانچہ جب آپ ﷺ نماز کے لئے وہاں سے گزرے تو وہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ ہو لیا، جب آپ ﷺ نے نماز پڑھنے کے لئے اپنے دائیں قدم اقدس کے سہارے بایاں نعل مبارک اتارا تو اس لڑکے نے اسے اٹھایا اور اپنے کپڑے کے ساتھ اسے صاف کیا پھر اسے پھونک کر جھاڑا، اسی طرح اس نے دائیں نعل مبارک کے ساتھ بھی کیا، بعد ازاں جب جناب رسول ﷺ نماز سے فارغ ہوئے اور لوٹنے کا ارادہ فرمایا ، تو اس بچے نے آپ ﷺ کو دایاں نعل مبارک پیش کیا آپﷺ نے اسے پہن لیا پھر اس نے بایاں نعل مبارک پیش کیا آپ ﷺ نے اسے بھی پہن لیا، اس بچے نے یہ عمل کئی دن تک کیا، چنانچہ ایک دن جناب رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھ لیا : اے بچے تم کون ہو؟ عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ! میں انصاری ہوں ، فرمایا تمہیں یہ کرنے کا کس نے حکم دیا ہے؟ عرض کیا: مجھے کسی نے حکم نہیں دیا بلکہ میں نے خود چاہا کہ اللہ کے پیارے رسول ﷺکی خوشی حاصل کروں، چنانچہ جناب رسول اللہﷺ نے اپنے دست مبارک لمبے فرما دیئے ، اور دعاء کی: اے اللہ ! یہ بچہ اس عمل سے مجھے خوشی پہنچانا چاہتا ہے تو تو اسے دنیا اور آخرت میں خوش کر دے، آپ ﷺ نے یہ دعاء تین بار فرمائی ۔ (شرف المصطفى ﷺ جلد 4 صفحه 536 رقم 1866) جناب ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: جناب رسول ﷺ جب تشریف فرما ہوتے تو ہم بھی آپ ﷺ کے پاس بیٹھ جاتے اور جب آپﷺ اٹھ کر جاتے اور واپسی کا ارادہ ہوتا تو اپنے نعلین مبارک یا اپنی کوئی چیز وہیں چھوڑ جاتے جس سے ہمیں پتہ چل جاتا کہ آپﷺ واپس تشریف لائیں گئے اور تب تک سب لوگ وہیں ٹھہرے رہتے۔ (سنن ابي داود حدیث 4854) روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ بے شک نبی کریم ﷺ کی نعلین پاک میں دو فیتے تھے۔ (مراۃ المناجیح حدیث 4408) نبی کریم ﷺ کےنعلین درمیان سے باریک اور پتلے، ایڑی دار اور زبان کی شکل کی طرح تھے، آپﷺ داہنی جانب سے جوتا مبارک پہنتے، دونوں جو تے پہنتے، ایک ہی جوتا پہننے سے منع فرمایا۔ آپ ﷺ کے خادم خاص سیدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس آپ ﷺکے نعلین مبارک محفوظ تھے، جن کی زیارت صحابہ کرام اور دیگر لوگ کرتے تھے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کی نعلین پاک ( جوتی شریف) کے دوتسمے (Laces) تھے جو بٹے ہو ئے تھے (ابن ماجہ حدیث 3614) حضرت مفتی احمد یار خان رحمہ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: حضور ﷺ کے ایک جو تا شریف میں دو تسمے ہوتے تھے ہر تسمہ بٹا ہوا، اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے نعلین پاک تھے ، اس زمانہ میں چپل کا رواج عام تھا وہ بھی تسمے والی۔ نبی کریم ﷺ کی جوتی مبارک کے دونوں چمڑے کے فیتے آپ ﷺ کے انگوٹھے اور انگلی کے درمیان سے ہوکر پنجے مبارک کے دائیں بائیں جڑے ہو ئے تھے۔ نقش پاک والی چپل نبی کریم ﷺ نے اکثر پہنی ہے۔ (مراۃالمناجیح)