اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ خَاتَمُ رَسُولِ اللهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہ وَ آلہِ وَسَلَّم مِنْ فِضَّةٍ فَصُّهُ مِنْهُ۔
شمائل ترمذی (حدیث 84)حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی تھا۔
حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس ﷺ کی انگوٹھی کا نقش محمد رسول اللہ ﷺ تھا اس طرح کہ محمد ﷺ ایک سطر میں تھا رسول دوسری سطر میں لفظ اللہ تیسری سطر (بعض علماء نے لکھا ہے کہ اس کی صورت محمد رسول اللہ تھی کہ اللہ پاک کا نام اوپر تھا یہ مہر گول تھی اور نیچے سے پڑھی جاتی تھی۔ مگر محققین کی رائے یہ ہے کہ ظاہر الفاظ سے (محمد رسول اللہ) معلوم ہوتا تھا۔ (شمائل ترمذی حدیث 86) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ایک چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رہتا تھا اس میں محمد رسول اللہ کندہ کرایا تھا۔ اور لوگوں کو منع فرمادیا تھا کہ کوئی شخص اپنی انگوٹھی پر یہ کندہ نہ کرائے۔ یہ وہی انگوٹھی تھی جو معقیب سے حضرت عثمان کے زمانہ میں بیر اریس میں گرگئی تھی۔ (شمائل ترمذی حدیث 95) روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اس سے منع کیا کہ میں اپنی اس انگلی میں یا اس میں انگوٹھی پہنوں فرمایاکہ بیچ والی انگلی اور اس کی برابر والی کی طرف اشارہ فرمایا۔ (مراۃالمناجیح حدیث 4390) خیال رہے کہ عورتوں کو ہر انگلی میں انگوٹھی پہننا جائز ہے مگر مردوں کو تین انگلیوں میں پہننا منع ہے: انگوٹھا،کلمہ کی انگلی اور بیچ کی انگلی۔اور دو انگلیوں میں پہننا مستحب ہے چھنگلی اور اس کے برابر والی میں،یوں ہی مرد صرف ایک انگوٹھی پہن سکتا ہے وہ بھی چاندی کی سوا چار ماشہ تک،عورتیں سونے چاندی کی دس انگوٹھیاں دسوں انگلیوں میں پہن سکتی ہیں۔ امام اہلسنت مجدددین وملت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:’’شرعاًچاندی کی ایک انگوٹھی ایک نگ کی وزن میں ساڑھے چار ماشے سے کم ہو پہننا جائز ہے اگرچہ بے حاجت مہر اس کا ترک افضل اور مہر کی غرض سے خالی جواز نہیں بلکہ سنت۔ (فتاوی رضویہ،جلد22،صفحہ141)