اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عورتوں پر حضور ﷺ کی شفقت اس قدر تھی کہ اگر آپ نماز کی حالت میں کسی بچہ کی آواز سنتے تو اس کی ماں کی مشقت کے خیال سے نماز میں تخفیف فرماتے ۔حضور ﷺ کے ایک سیاہ فام غلام انجشہ نام کے تھے وہ بڑے خوش آواز تھےاور اونٹوں کے آگے حُدی پڑھا کرتے تھے(حدی یاحدا وہ گانا ہے جس سے اونٹ کو مستی دلا کر چلایا جائے)۔ ایک دفعہ سفر میں ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنهم ساتھ تھیں تو حضور ﷺ نے فرمایا: *"رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ"* انجشہ چھوڑ دو کچی شیشیاں نہ توڑو۔ (یعنی میرے ساتھ سفر میں عورتیں بھی ہیں جنکے دل کچی شیشی کی طرح کمزور ہیں خوش آوازی ان میں بہت جلد اثر کرتی ہے اور وہ لوگوں کے گانے سے گناہ کی طرف مائل ہوسکتی ہیں اس لیے اپنا گانا بند کردو)۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنهما مکہ میں حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالی عنہ کے نکاح میں آئیں۔ حضرت زبیر کے پاس ایک گھوڑے اور ایک آب کش اونٹ (آب پاشی کے لئے پانی لے جانے والا اونٹ) کے سوا کوئی مال نہ تھا اس لئے حضرت اسماء گھر کے کام کے علاوہ گھوڑے کے لئے گھاس لاتیں اور اونٹ کو کھجور کی گٹھلیاں کوٹ کر کھلا تیں۔ چنانچہ آپ بیان فرماتی ہیں کہ میں اس زمین سے جو رسول اللہ ﷺ نے ( ہجرت کے بعد اموال بنی نضیر میں سے ) حضرت زبیر کو عطا فرمائی تھی اور جو میرے مکان سے دو میل کے فاصلے پر تھی کھجور کی گٹھلیاں اپنے سر پر لاد کر لایا کرتی تھی۔ ایک روز میں آرہی تھی اور گٹھلیاں میرے سر پر تھیں ۔ اس حالت میں میری نظر رسول الله ﷺ پر پڑی۔ آپﷺ کے ساتھ انصار کی ایک جماعت تھی۔ آپﷺ نے مجھے آواز دی اور اونٹ کو بٹھا دیا تا کہ مجھے اپنے پیچھے سوار کرلیں۔ میں مردوں کے ساتھ چلنے سے شرما گئی۔ حضور ﷺ آگے تشریف لے گئے ۔ کچھ عرصہ کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک خادمہ میرے پاس بھیج دی جو گھوڑے کی خدمت کیا کرتی تھی۔ صحیح مسلم کی دوسری روایت میں حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کا بیان ہے کہ میں حضرت زبیر کے ہاں ان کا ایک گھوڑا تھا جس کی نگہبانی میرے ذمہ تھی۔ گھوڑے کی نگہبانی سے زیادہ سخت اور کوئی خدمت نہ تھی میں اس کے لئے گھاس لاتی، اس کی خدمت ونگہبانی کرتی ۔ کچھ عرصہ کے بعد آپ ﷺ کے پاس غلام آئے ۔ آپ ﷺ نے ایک خادمہ حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کو عطا فرمائی جو گھوڑے کی خدمت کیا کرتی تھی یعنی کہ حضور ﷺ نے وہ باندی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاں بھیج دی تا کہ وہ حضرت اسماٰء رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس بھیج دیں۔ (سیرت رسول عربی ﷺ ص؛321/322)
وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ.