logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

حضور ﷺکی بچوں پر شفقت و رحمت

حضور ﷺکی بچوں پر شفقت و رحمت

نبی پاک ﷺ کی ذاتی صفات

حدیث

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مَنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِصِبْيَانِ أَهْلِ بَيْتِهٖ، وَإِنَّهٗ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَسُبِقَ بِيْ إِلَيْهِ، فَحَمَلَنِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ جِيْءَ بِأَحَدِ ابْنَيْ فَاطِمَةَ فَأَرْدَفَهٗ خَلْفَهٗ، قَالَ: فَأُدْخِلْنَا الْمَدِيْنَةَ ثَلَاثَةً عَلٰى دَابَّةٍ. رَوَاهُ مُسْلِم

مشکاۃ المصابیح، باب آداب السفر (حدیث3900)

ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن جعفر سے فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ سفر سے تشریف لاتے تھے تو آپ کے گھر والے بچے استقبال کے لیے لے جاتے تھے، حضورﷺ ایک سفر سے آئے تو مجھے حضور ﷺکے استقبال کے لیے لایا گیا تو مجھے حضورﷺ نے اپنے آگے سوار کرلیا پھر حضرت فاطمہ کے بیٹوں میں سے ایک لایا گیا، تو اسے اپنے پیچھے بٹھالیا فرماتے ہیں کہ ہم تین مدینہ میں ایک سواری پر داخل ہوئے۔

حکایت

ایک دیہاتی رسول الله ﷺکے پاس آکر کہنے لگا کہ آپ بچوں کو چومتے ہیں ہم نہیں چومتے ۔ آپﷺ نے فرمایا: جب اللہ تمہارے دل سےرحمت نکال لے تو میں کیا کر سکتا ہوں ۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکے پیچھے نماز ظہر پڑھی نماز سے فارغ ہو کر آپﷺ اپنے دولت خانہ کو تشریف لے گئے ، میں آپ ﷺ کے ساتھ ہولیا، راستے میں بچے ملے ، آپ ﷺ نے ہر ایک کے رخساروں پر دست شفقت پھیرا اور میرے رخساروں پر بھی پھیرا، میں نے آپﷺ کے دست مبارک کی ٹھنڈک یا خوشبو ایسی پائی کہ گویا آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک عطار کےصندوقچہ میں سے نکالا تھا۔ جب آپ ﷺ کا گزر بچوں کے پاس سے ہوتا تو ان کو سلام کیا کرتے تھے۔ حضرت ابو رافع بن عمر و غفاری کے چچا بیان کرتے ہیں کہ میں لڑکپن میں انصار کے نخلستان میں جاتا اور درختوں پر ڈھیلے مارتا، مجھے رسول الله ﷺ کی خدمت میں لے گئے ،آپ ﷺ نے پوچھا لڑکے ! تو درختوں پر ڈھیلے کیوں مارتا ہے؟ میں نے عرض کی: کھجوریں کھانے کے لئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ڈھیلے نہ مارا کرو کھجوریں جو نیچے گری ہوں کھا لیا کرو۔ پھر آپ ﷺ نے میرے سر پر دست شفقت پھیرا اور یوں دعا فرمائی: خدایا ! اس کا پیٹ بھر دے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ فصل کا کوئی پھل پکتا تو لوگ اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا کرتے ، آپ ﷺ اس پر یہ دعا پڑھا کرتے: "خدایا! ہمیں اپنے مدینہ میں اور اپنے پھل میں اور اپنے مد میں اور اپنے صاع میں (مد اور صاع دو پیمانے ہیں) برکت دے۔ اس دعا کے بعد بچے جو حاضر خدمت ہوا کرتے ان میں سے سب سے چھوٹے کو حضورﷺوہ پھل عنایت فرماتے۔ (سیرت رسول عربیﷺ ص؛327)

اہم نکات

  • اس حکا یت سے یہ معلوم ہوا کہ بچوں سے بہی ہمیشہ پیار محبت سے پیش آنا چاہئے ۔ان پر شفقت کرنی چاہئے۔
  • اسی طرح اگر بچوں سے کوئی غلطی ہو جائے تو انھیں مارنے اور ڈانٹنے کے بجائے پہلے پیار سے سمجھایا جائے ۔
حضور ﷺکی بچوں پر شفقت و رحمت | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya