اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عُتْبَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَائً مِنْ الْعَذْرَائِ فِي خِدْرِهَا وَکَانَ إِذَا کَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ۔
صحیح مسلم، (حدیث 6022)عبداللہ بن ابی عتبہ سے روایت ہے، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرم وحیاء والے تھے جو کہ باپردہ ہو اور جب آپ ﷺ کسی چیز کو ناپسند سمجھتے تھے تو ہم اسے آپ ﷺ کے چہرہ اقدس سے پہچان جاتے تھے۔
نبیِ کریم ﷺ کی عالی صفات میں سے ایک صفت حیا ہے۔چونکہ نبیِ کریم ﷺ کی ہر صفت کامل و اکمل،اعلیٰ و ارفع ہے،اس لئے آپ کی صفتِ حیا اور مقامِ حیا بھی سب سے کامل واکمل ،اعلیٰ وارفع ہوگی۔ جب سرکار ِدو عالم ﷺ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا اور ولیمے کی دعوت دی تو لوگ جماعت کی صورت میں آتے اور کھانے سے فارغ ہو کر چلے جاتے۔آخر میں تین صاحب ایسے تھے جو کھانے سے فارغ ہو کر بیٹھے رہے اور انہوں نے گفتگو کا طویل سلسلہ شروع کر دیا اور بہت دیر تک بیٹھے رہے۔مکان تنگ تھا تو اس سے گھر والوں کو تکلیف ہوئی اور حرج واقع ہوا کہ وہ ان کی وجہ سے اپنا کام کاج کچھ نہ کر سکے۔ رسولِ کریم ﷺ اٹھے اور اپنی ازواجِ مطہرات کے حجروں میں تشریف لے گئے اور جب دورہ فرما کر تشریف لائے تو اس وقت تک یہ لوگ اپنی باتوں میں لگے ہوئے تھے۔حضور ﷺ پھر واپس ہو گئے تو یہ دیکھ کر وہ لوگ روانہ ہوئے،تب حضور ﷺ دولت سرائے میں داخل ہوئے اور دروازے پر پردہ ڈال دیا۔ اس واقعے سے حضور ﷺ کی کمالِ شرم و حیا کا پتہ چلتا ہے کہ ناگوار گزرنے کے باوجود بھی ان سے یہ نہیں فرمایا کہ آپ لوگ یہاں سے چلے جائیں۔ اللہ پاک ہمیں بھی حضور ﷺ کی شرم و حیا کا صدقہ عطا فرمائے۔ امین حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ بہت زیادہ حیا فرمانے والے تھے۔آپ سے جب بھی کسی چیز کا سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے وہ عطا کردی۔ (دارمی،1/48،رقم:71) آپﷺ کی شانِ حیا کی تصویر کھینچتے ہوئے ایک معزز صحابی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ ﷺکنواری پردہ نشین عورت سے بھی کہیں زیادہ حیا دار ہیں۔ (سیرتِ مصطفیٰ ،ص613) آقا ﷺ کی شرم و حیا پر سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ ﷺ جب کسی چیز کی طرف دیکھتے تو اپنی نگاہِ مبارک نیچی فرمالیا کرتے تھے،بلا ضرورت اِدھر اُدھر نہ دیکھا کرتے تھے،ہمیشہ اللہ پاک کی طرف متوجہ رہتے،اسی کی یاد میں مشغول اور آخرت کے معاملات میں غور و فکر کرتے رہتے،نیز آپ کی نظرِ مبارک آسمان کی نسبت زمین کی طرف زیادہ رہتی تھی۔ (مواھب لدنیۃ، 272/5) *"نیچی نظروں کی شرم و حیا پر درود اونچی بینی کے رفعت پہ لاکھوں سلام"*