اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْفِطْرَةُ قَصُّ الْأَظْفَارِ وَأَخْذُ الشَّارِبِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ،
سنن نسائ، (حدیث 12)حضرت عبدااللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ناخن تراشنا، مونچھ کے بال ترشوانا ، اور زیر ناف کے بال مونڈنا فطری (پیدائشی) سنتیں ہیں۔
حضرت عبدﷲ بن عمر فرماتے ہیں: *"رایت النبى صلى اللّٰه علیه وسلم یحفى شاربه"* میں نے حضورﷺکی زیارت کی اس وقت آپ اپنی مونچھیں ترشوا رہے تھے۔ ( طبقات ابن سعد،347) حضرت عبدﷲ بن بسر بیان کرتے ہیں: *"رایت رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم یطر شاربه طراً"* میں نے اﷲ کے رسول ﷺکو مونچھیں مونڈتے ہوئے دیکھا ہے۔ (حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء ، حدیث: 7923) اُم المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ: حضورﷺ نے فرمایا: دس چیزیں فطرت(سلیمہ میں سے) ہیں مونچھیں ترشوانا اور داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن تراشنا، جوڑوں کا دھونا، بغل کے بال نوچنا، زیر ناف بال صاف کرنا، استنجاء کرنا، راوی دسویں چیز بیان کرنا بھول گیا لیکن اس کا خیال ہے کہ وہ کلی کرنا ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث: 261) فطرت ان چیزوں کو کہا جاتا ہے کہ انسان کی طبیعت سلیمہ پیدائشی طور پر ان کو پسند اور قبول کرتی ہو اور انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام بھی لازما اختیار اور پسند کرتے ہیں اس لئے امور فطرت ایسے کاموں کو بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ جن پر تمام انبیاء اور رسولوں کا عمل ہو اور جو سب کا متفق علیہ طریقہ ہو اور ساتھ ہی ہم کو ان پر عمل کرنے کا بھی حکم ہو۔ ناخن کاٹنے کو فطرت اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ انسان کی فطرت اور پیدائش میں داخل ہے یعنی انسان کی فطرت سلیمہ (سلامتی والی فطرت) ناخن کاٹنے کا تقاضا کرتی ہے اور جب فطرت کے ساتھ شریعت کا بھی حکم ہو تو اس کی تاکید اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ جمعۃ المبارک کے دن جمعہ کی نماز سے پہلے اپنے ناخن اور مونچھیں کاٹتے تھے۔ حضرت عبدﷲ بن عمرو بیان کرتے ہیں: *"كان یاخذ اظفارہ وشاربه كل جمعة"* نبی کریم ﷺہر جمعۃ المبارک کو اپنے ناخن اور مونچھیں کترتے تھے۔ ( الانوار فی شمائل النبی المختار، حدیث: 1106) حضرت انس بیان کرتے ہیں: رسولﷲ ﷺ نے ہمارے لیے مونچھیں ترشوانے، ناخن کاٹنے، بغل کے بال صاف کرنے، زیرناف بال صاف کرنے کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن مقرر فرمائی ہے۔ حضورنے اپنی پوری حیات مبارکہ میں بڑی اور لمبی مونچھیں نہیں رکھیں بلکہ جب جب مونچھیں بڑھ کر لب مبارک پر آنے لگتی تو آپﷺ اس کو فوری کتروا دیا کرتے تھے۔ کیونکہ آپ ﷺنہایت سلیم الطبع و نازک مزاج تھے اسی لیے آپ ﷺنہ خود بڑی اور بڑھی ہوئی مونچھوں کو پسند فرماتے اور نہ کسی اور کی اس طرح کی مونچھوں کو پسند فرماتے کیونکہ مونچھیں باربار انسان کے منہ میں داخل ہوتی ہیں اور تمام کھانے پینے کی اشیاء میں شامل ہوکر اس کو آلودہ کرتی ہیں ۔ حضور ﷺ نے ان معاملات میں طبعی نظامت و لطافت کا خیال رکھتے ہوئے اپنی مونچھوں کو ترشواکر، کم فرما دیا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم ، حدیث :257)