اسلامک ڈیسک کی جانب سے


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ،قَالَ:سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ،يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضليع الْفَمِ، أَشْكَلَ الْعَيْنِ ، مَنْهُوسَ الْعَقِبِ۔
(شمائل ترمذی حدیث 08)سماک بن حرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہﷺ کادہن مبارک کشادہ، آنکھیں فراخ اور سرخ مائل اور ایڑیاں مبارک دبلی پتلی تھیں۔
مصطفٰی جان رحمت ﷺ کی مبارک آنکھیں ایسی دلکش تھیں کہ دیکھنے والا قربان ہو جائے، ترمذی شریف میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ کی مبارک آنکھیں سرمگیں (یعنی بغیر سر مہ لگائےسرمہ لگی ہوئی نظر آتیں) اور پلکیں شریف گھنی اور لمبی تھیں۔ (سبل الہدی والرشاد ص24) حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، نبی کریم ﷺ کے مبارک آبرو (Holy Eyebrows) سائز میں بڑے تھے اور ان پر بال شریف مناسب تھے نہ بہت زیادہ نہ بالکل کم اور دور سے آپس میں ملے ہوئے لگتے تھے ۔ حضرت فاروق اعظم نبی اکرم ﷺ کی آنکھوں کی صفت کوبیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: *"كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم ادعج العینین"* حضور نبی کریمﷺ کی مبارک آنکھیں کشادہ اور گہری سیاہ تھیں۔ (سبل الہدی والرشاد ص23) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے: *"كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم اكحل العینین"* حضور نبی کریم ﷺ کی آنکھیں ہمیشہ سرمگیں رہتی تھیں ۔ (سبل الہدی والرشاد ص23) *"عن عائشة قالت:كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم یرى فى الظلمة كمایرى فى الضوء"* ام المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں: حضور نبی کریمﷺ اندھیرے میں بھی ویسے ہی دیکھتے تھے جیسے روشنی میں۔ (الشفاٰء ص 164) *"جس طرف اٹھ گئی دَم میں دَم آگیا اس نگاہِ عنایت پہ لاکھوں سلام"*