اسلامک ڈیسک کی جانب سے


اَلإِسلاَمُ نَظِيفٌ فَتَنَظَّفُوا، فَإِنَّهُ لَا يَدْخُلُ ال٘جَنَّةَ إِلَّا نَظِيفٌ،َوفِی رِوَایَتِہ َتنَظَّفُوا بِكُلِّ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَنَى الإِسْلَامَ عَلَى النَّظَافَةِ، وَلَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا كُلُّ نَظِيفٍ۔
(کنزالعمال،ج5،ص123،حدیث:25996)بےشک اسلام صاف سُتھرا (دِین) ہے (جبکہ ایک روایت میں ہے کہ اللہ پاک نے اسلام کی بنیاد صفائی پر رکھی ہے) تو تم بھی نَظافَت حاصل کیا کرو کیونکہ جنّت میں وہی شخص داخل ہوگا جو (ظاہر و باطن میں) صاف ستھرا ہوگا۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی پاک ﷺ کے پاس اس حال میں آیا کہ اس کے بال بکھرے ہوۓ تھے ۔ نبی پاک ﷺ نے جب اسے دیکھا تو آپ ﷺ نے یہ فرمایا :کیا اسے کوئ ایسی چیز نہیں ملی جس سے یہ اپنے بالوں کو سنوارلیتا۔ بالوں کو سنوارنا ، ان کی صفائ ستھرائ کا خیال کرنا یہ بھی صفائ و پاکیزگی کا حصہ ہے۔ اس حدیث پاک سے پتا چلا نبی پاک ﷺ بکھرے بالوں کو پسند نہیں فرماتے تھے ۔ بلکہ بالوں کا سنورا ہونا یہ سرکار ﷺ کو پسند تھا۔ (سنن ابی داود حدیث 4062) *گھر کی صفائی:* حضور نبی رحمت ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالٰی پاک ہے، پاکی پسند فرماتا ہے،ستھرا ہے، ستھرا پن پسندفرماتا ہے لہٰذا تم اپنے صحن صاف رکھو اوریہودسے مشابہت نہ کرو۔ (ترمذی،ج4،ص325،حدیث:2808) *لباس کی پاکیزگی:* جو لباس تم پہنتے ہو اسے صاف ستھرا رکھو اور اپنی سواریوں کی دیکھ بھال کیا کرو اور تمہاری ظاہری شکل و صورت ایسی صاف ستھری ہو کہ جب لوگوں میں جاؤ تو وہ تمہاری عزت کریں۔ (جامع صغیر، ص22، حدیث: 257) *کھانے کے بعدکی صفائی:* *"عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ :قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : "إِذَا أَكَلْتُمْ شَيْئًا فَتَمَضْمَضُوا ،فَإِنَّ ذَلِكَ أَنْقَى لِفِيكُمْ وَأَطْيَبُ"* ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تم کچھ کھاؤ تو کلی کرو، کیونکہ یہ منہ کی صفائی اور تازگی کے لیے بہتر ہے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 404)