اسلامک ڈیسک کی جانب سے


وَعَنْ عَامِرٍ الرَّامِ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهٗ -يَعْنِي عِنْدَ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَيْهِ كِسَاءٌ، وَفِي يَدِهٖ شَيْءٌ قَدِ الْتَفَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ مَرَرْتُ بِغَيْضَةِ شجَرٍ فَسَمِعْتُ فِيهَا أَصْوَاتَ فِرَاخِ طَائِرٍ، فَأَخَذْتُهُنَّ فَوَضَعْتُهُنَّ فِي كِسَائِي، فَجَاءَتْ أُمُّهُنَّ فَاسْتَدَارَتْ عَلٰى رَأْسِي، فَكَشَفْتُ لَهَا عَنْهُنَّ، فَوَقَعَتْ عَلَيْهِنَّ فَلَفَفْتُهُنَّ بِكِسَائِي فَهُنَّ أُوْلَاءِ مَعِيَ، قَالَ: ضَعْهُنَّ، فَوَضَعْتُهُنَّ، وَأَبَتْ أُمُّهُنَّ إِلَّا لُزُوْمَهُنَّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَتَعْجَبُوْنَ لِرُحْم أُمِّ الأَفْرَاخِ فِرَاخَهَا، فَوَالَّذِيْ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَلّٰهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهٖ مِنْ أُمِّ الأَفْرَاخِ بِفِرَاخِهَا، ارْجِعْ بِهِنَّ حَتّٰى تَضَعَهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُنَّ وَأُمُّهُنَّ مَعَهُنَّ، فَرَجَعَ بِهِنَّ۔
مشکاۃ المصابیح، کتاب الدعوات (حدیث2377)روایت ہے حضرت عامر الرام سےفرماتے ہیں کہ ہم ان کے یعنی نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر تھے کہ اچانک ایک شخص آیا جس پر کمبل تھا اس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جس پر کمبل لپیٹا تھا عرض کیا ؛یارسول اللہﷺ میں ایک درخت کی جھاڑی پر گزرا تو میں نے اس جھاڑی میں چڑیا کے چوزوں کی آواز سنی میں نے انہیں پکڑ لیا اور اپنے کمبل میں رکھ لیا ،اتنے میں ان کی ماں آگئی وہ میرے سر پر چکر لگانے لگی میں نے اس کے سامنے وہ بچے کھول دیئے وہ ان پر گر پڑی میں نے ان سب کو اپنے کمبل میں لپیٹ لیا وہ سب یہ میرے ساتھ ہیں فرمایا انہیں رکھ دو ،میں نےانہیں رکھ دیا ان کی ماں انہیں چمٹی رہی ،تب رسول ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم ان چوزوں کی ماں کی اپنے بچوں سے اتنی مامتا پر تعجب کرتے ہو اس کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا اللہ تعالٰی اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنی بچوں کی ماں چوزوں ،پر انہیں واپس لے جاؤ حتی کہ انہیں وہاں ہی رکھ آؤ جہاں سے پکڑا ہے اور ان کی ماں ان کے ساتھ رہی وہ انہیں واپس لے گیا۔
حضرت عبد الرحمن کے والد عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول الله ﷺکے ساتھ تھے۔ آپ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے ہم نے چڑیا کی مثل ایک پرندہ کو دیکھا جس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے ہم نے دونوں بچوں کو پکڑ لیا چڑیا آئی اور اُترنے کے لئے بازو پھیلا نے لگی اتنے میں نبی پاک ﷺ تشریف لے آئے اور آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے بچوں کو پکڑ کر اسے کس نے دکھ دیا ہے اس کے بچے اسے واپس دے دو ۔ پھر آپ ﷺ نے ایک چیونٹیوں کا گھر دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا۔ آپﷺ نے پوچھا کہ اسے کس نے جلایا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ ہم نے جلایا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جائز نہیں کہ خدا کے سوا کوئی کسی کو آگ کا عذاب دے ۔ ایک روز حضرت عثمان بن حبان نے ایک پسو پکڑ کر آگ میں ڈال دیا۔ اس پر حضرت اُم درداء رضی اللہ تعالی عنها نے کہا: میں نے ابوالدرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے سنا ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: آگ کے مالک (خدا) کے سوا کوئی کسی کو آگ کا عذاب نہ دے ۔ (سیرت رسول عربیﷺ ص؛336)