logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

حضورﷺ کی قوت وبھادری

حضورﷺ کی قوت وبھادری

نبی پاک ﷺ کی ذاتی صفات

حدیث

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللہ عَنْهُ قَال: اِنَّا كُنَّا يَوْم الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ، فَعَرضَتْ كُدْيَةٌ شَدِيْدَةٌ فَجَاءُوْااِلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَقَالُوْا: هٰذِهِ كُدْيَةٌ عَرَضَتْ فِي الْخَنْدَقِ. فَقَالَ:”اَنَا نَازِلٌ“ ثُمَّ قَامَ وَبَطْنُهُ مَعْصُوْبٌ بِحَجرٍ ، وَلَبِثْنَا ثَلاثَةَ اَيَّامٍ لَانَذُوْقُ ذَوَاقاً، فَاَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِعْوَلَ، فَضرَب فَعَادَ كَثيْباً اَهْيَلَ،اَوْ اَهْيَمَ.

(فیضان ریاض الصالحین حدیث520)

ترجمہ

حضرت سیدنا جابر رضی اللہ تَعَالٰی عنہ فرماتے ہیں:” خندق کے دن ہم لوگ خندق کھود رہے تھے تو ایک بڑی چٹان آڑے آگئی، صحابہ ٔ کرام نے بارگاہِ رسالت میں حاضرہوکر عرض کی: ”یارسولَ اللہ ﷺ !ایک چٹان آڑے آگئی ہے۔“ فرمایا:”میں آتا ہوں۔ “ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے حالانکہ آپ کے شکم مبارک پر پتھر بندھا ہوا تھا اور ہم نےتین دن سے کچھ کھایا نہ تھا۔ رسولُ اللہ ﷺ نے کُدال اُٹھایا اور ایک ضرب لگائی تو وہ پتھر رَیت کی طرح بکھر گیا۔

حکایت

عرب کا مشہور پہلوان رکَانہ سرکارِ مدینہﷺ کے سامنے سے گزرا آپ ﷺ نے اس کو اسلام کی دعوت دی وہ کہنے لگا کہ اے محمد! اگر آپ مجھ سے کُشتی لڑ کر مجھے پچھاڑ دیں تو میں آپ ﷺ کی دعوتِ اسلام کو قبول کرلوں گا۔ حضور نبیِّ اکرم ﷺ تیار ہو گئے اور اس سے کُشتی لڑکر اس کو پچھاڑ دیا، پھر اس نے دوبارہ کُشتی لڑنے کی دعوت دی آپ ﷺ نے دوسری مرتبہ بھی اپنی پیغمبرانہ طاقت سے اس کو اس زور کے ساتھ زمین پر پٹک دیا کہ وہ دیرتک اٹھ نہ سکا اور حیران ہو کر کہنے لگا کہ اے محمد ﷺ خُداکی قسم! آپ ﷺ کی عجیب شان ہے کہ آج تک عرب کاکوئی پہلوان میری پیٹھ زمین پر نہیں لگا سکا مگر آپ ﷺ نے دم زدن میں (یعنی فوراََ) مجھے دو مرتبہ زمین پر پچھاڑ دیا۔ (سیرت مصطفٰی ص 621) ابو الاسودجُمَحی اتنا بڑا طاقتور پہلوان تھا کہ وہ ایک چمڑے پر بیٹھ جاتا تھا اور دس پہلوان اس چمڑے کو کھینچتے تھے تا کہ وہ چمڑا اس کے نیچے سے نکل جائے مگر وہ چمڑا پھٹ پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کے باوجود اس کے نیچے سے نکل نہیں پاتا تھا۔ اس نے بھی بارگاہِ اقدس میں آکر یہ چیلنج دیا کہ اگر آپﷺ مجھے کُشتی میں پچھاڑ دیں تو میں مسلمان ہو جاؤں گا۔ حضور نبیِّ کریم ﷺ اس سے کُشتی لڑنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور اس کا ہاتھ پکڑتے ہی اس کو زمین پر پچھاڑ دیا۔ وہ آپ ﷺ کی اس طاقتِ نبوّت سے حیران ہو کر فوراً ہی مسلمان ہو گیا۔ غزوات میں جہاں بڑے بڑے دلاور و بہادر بھاگ جایا کرتے تھے آپ ﷺ ثابت قدم رہا کرتے تھے۔ چنانچہ جنگ احد میں جب مسلمانوں کو ظاہری شکست ہوئی تو(اس وقت بھی) آقا ﷺ استقامت سے اپنی جگہ پر قائم رہے اور دشمنوں پر تیر پھینکتے رہے جب کمان پارہ پارہ ہوگئی تو سنگ اندازی شروع کی۔ جنگ حنین میں صرف چند جانباز آپ ﷺ کے ساتھ رہ گئے تھے، اس نازک حالت میں آپ ﷺ نے اسی پر اکتفاء نہ کیا کہ اپنی جگہ پر قائم رہ کر مدافعت فرمائیں بلکہ اپنے خچر کو بار بار ایز لگا کر دشمن کی طرف بڑھانا چاہتے تھے۔ جب گھمسان کا معرکہ ہوا کرتا تھا تو صحابہ کرام رضوان الله تعالى عليهم أجمعین حضور عليه الصلوة والسلام کی آڑمیں پناہ لیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے: اللہ کی قسم ! جب لڑائی شدت سےہوا کرتی تھی تو ہم نبیﷺ کی پناہ ڈھونڈا کرتے تھے اور ہم میں سے بہادر وہ ہوتا تھا جو آپﷺ کے ساتھ دشمن کے مقابل کھڑا ہوتا تھا ۔ اعلان دعوت (یعنی اسلام کی دعوت )پر قریش نے آپ ﷺ کی سخت مخالفت کی جب ابو طالب نے بھی آپ ﷺکا ساتھ چھوڑنے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے یوں فرمایا: چچا جان ! اللہ کی قسم ! اگر وہ سورج کو میرے دائیں ہاتھ میں اور چاند کو بائیں ہاتھ میں رکھ دیں تاکہ میں اس کام کو چھوڑ دوں تب بھی اس کام کو نہ چھوڑوں گا یہاں تک کہ خدا اسے غالب کر دے یا میں خود ہلاک ہو جاؤں ۔ (سیرت رسول عربیﷺ ص354) *"جس کو بارِ دو عالم کی پروا نہیں ایسے بازو کی قوت پہ لاکھوں سلام"*

اہم نکات

  • پیارے آقا ﷺ کو الله پاک نے شجاعت و بہادری کا پیکر بنایا ۔اور آپﷺ کو بے پایا قوت عطا کی ۔
  • اس سے ایک بات یہ پتا چلی کہ دین اسلام کی خاطر ہمیشہ ثابت قدم رہنا چاہئے ۔
  • حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم ﷺ بہت زیادہ طاقت ور تھے تین دن سے کچھ نہ کھایا تھااس کے باوجود وہ چٹان جس پر کُدال کام نہیں کرتا اُسے آپ ﷺ نے ایک ہی ضرب میں ریزہ ریزہ کردیا۔
حضورﷺ کی قوت وبھادری | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya