logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

حضور ﷺ کی روٹی  مبارک

حضور ﷺ کی روٹی مبارک

نبی پاک ﷺ کی جسمانی صفات

حدیث

عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبِيتُ اللَّيَالِي المُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا، وَاَهْلُهُ لَا يَجِدُونَ عَشَاءً، وَكَانَ اَكْثَرُ خُبْزِ هِمْ خُبْزَ الشَّعِيرِ

فیضان ریاض الصالحین (حدیث 514)

ترجمہ

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کئی کئی راتیں مسلسل بھوک کی حالت میں گزارتے، آپ کے گھروالوں کے پاس رات کا کھانا نہ ہوتا اور عام طور پر اُن حضرات کی خوراک جَو کی روٹی ہواکرتی تھی۔ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ آقا ﷺ نے اس دنیا سے بقدرِ ضرورت بھی نہ لیا بلکہ ضرورت سے بھی کم پر اکتفا کیا، کئی کئی رات تو کھانا میسر ہی نہ آتا اور جب کھانا میسر ہوتا تو عموماً جَو کی روٹی ہوتی تھی وہ بھی کیسی کہ بغیر چھنے آٹے کی۔ اہل بیت اطہار کی خوراک عام طور پر جَو کے بے چھنےآٹے کی روٹی ہواکرتی اور وہ بھی لگا تار دو دن پیٹ بھر کر تناول نہ فرماتے۔

حکایت

سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالٰ عنھم فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے جَو کی روٹی کا ٹکڑا لیا اور اس پر کھجور رکھی اور فرمایا ” یہ اس کا سالن ہے ۔“ (سنن ابی داود) جب غزوہ تبوک کا دن ہوا تو لوگوں کو بھوک نے گھیرلیا جناب عمر نے عرض کیا یارسول اﷲ ﷺ ان لوگوں سے ان کے بچے ہوئے تو شے منگائیے پھر ان کے لیے اﷲ سے اس کھانے پر برکت کی دعا کیجئے فرمایا ہاں ،چنانچہ دستر خوان منگایا اسے بچھایا پھر ان کے بچے ہوئے توشے منگائے تو کوئی شخص ایک مٹھی جوار لانے لگا اور کوئی ایک مٹھی چھوہارے اور کوئی دوسرا روٹی کا ٹکڑا ۔حتی کہ دستر خوان پر تھوڑی سی چیز جمع ہوگئی ۔ پھر رسول اﷲ ﷺ نے برکت کی دعا کی پھر فرمایا کہ اسے اپنے برتنوں میں لے لو ۔ چنانچہ لوگوں نے اپنے برتنوں میں لے لیا حتی کہ لشکر میں کوئی برتن نہ چھوڑا مگر اسے بھر لیا پھر کھایا حتی کہ سیر ہوگئے اور باقی بچا رہا،تب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اﷲ کا رسول ہوں ،کوئی بندہ اس گواہی کو لے کر اﷲ سے نہ ملے گا جب کہ شک نہ کرے پھر وہ جنت سے حجاب میں بھی رہے۔ (مراۃ المناجیح حدیث 5912) حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ کے اہلِ خانہ نے سیر ہوکر نہ کھایا حتی کہ آپﷺ وصال فرماگئے۔ وقت وصال آپ علیہ السلام کی ذرع ایک یہودی کے پاس ایک صاع جو کے عوض رہن رکھی ہوئی تھی۔آپ ﷺ کے پاس کثیر مال آتا مگر آپ ﷺ اسے جمع نہ کرتے بلکہ اللہ عزوجل کی رضا کے لیے خرچ فرما دیتے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں: رسولُ اللہ ﷺمسلسل کئی کئی راتیں بھوک کی حالت میں گزار دیتے تھے،آپ ﷺ اور اہلِ بیت کو رات کا کھانا میسر نہیں ہوتا تھا اورجب کبھی کھانا میسر آتا تو اکثر اوقات جَو کی روٹی ہی ہوتی تھی۔ (فیضان ریاض الصالحین)

حضور ﷺ کی روٹی مبارک | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya