اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَن اَبِی٘ اُمَامَۃَ قَال ذُكِرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَوْمًا عِندَهُ الدُّنْيَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَسْمَعُونَ، أَلَا تَسْمَعُونَ، إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ، إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ
(سنن ابی داؤد ،کتاب الترجل، جلد 2،ص220 )حضرت ابو امامہ رضیَ اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اﷲﷺ کے پاس آپ کے اصحاب دنیا کا تذکرہ کر رہے تھے،تو رسول پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا سنتے نہیں ہو؟ کیا سنتے نہیں ہو؟سادگی کی حالت میں ہونا ایمان سے ہے، سادگی کی حالت میں ہونا ایمان سے ہے۔
حضرت سیدنا عروہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہےکہ حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اُن سے فرمایا کرتی تھیں: ”اے بھانجے!اللہ کی قسم! ہم چاند دیکھتے، پھر چاند دیکھتے، پھر چاند دیکھتے، دو مہینوں میں تین بار چاند دیکھتے اور اِس دوران رسول اللہ ﷺ کے گھر میں چولہا نہ جلتا۔‘‘ حضرتِ سیدناعُروہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:میں نے پوچھاکہ پھر آپ لوگوں کا گزارہ کیسے ہوتا تھا؟ فرمایا:دو سیاہ چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر۔البتہ حضور ﷺ کے کچھ انصاری پڑوسی تھے جن کے پاس دودھ دینے والی اونٹنیاں تھیں وہ اُن کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے تو حضور ﷺ ہمیں پلا دیتے۔ دینِ اسلام میں سادگی مطلوب و پسندیدہ ہے۔ آپ ﷺ نے بھی سادگی کو اختیار فرمایا اور اسی کی طرف لوگوں کو دعوت بھی دی۔ جیساکہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ سادگی ایمان سے ہے۔ *سادگی کیا ہے؟* احادیثِ طیبہ اور عبارات ِ فقہاء و علماء سے سادگی کا جو مفہوم نکلتا ہے، وہ یہ ہے کہ زندگی كے معاملات یعنی کھانے ، پینے ،پہننے ،برتنے اور رہن سہن وغیرہا میں بے جا تکلفات اور اسراف سے بچنے کا نام سادگی ہے، جبکہ کنجوسی کی حد تک نہ پہنچ جائے۔ شیخ الحدیث ،علامہ عبدالمصطفٰی اعظمی رحمۃاللہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں:”سادگی:خوراک' پوشاک' سامان ِ زندگی، رہن سہن ہر چیز میں بے جا تکلفات سے بچنا “۔ اور زندگی کے ہر شعبہ میں سادگی رکھنا یہ بہت ہی پیاری عادت اور نہایت ہی نفیس خصلت ہے۔ سادہ طرز زندگی میں امیری ہو یا فقیری ہر جگہ ہر حال میں راحت ہی راحت ہے۔اس عادت والا آدمی نہ کسی پر بوجھ بنتا ہے،نہ خود قسم قسم کے بوجھوں سے زیر بار ہو تا ہے۔۔۔ہر مسلمان مرد اور عورت کو چاہیے کہ سادگی کی زندگی بسر کر کے رسول اﷲ ﷺ کی اس سنتِ کریمہ پر عمل کرے اور دنیا و آخرت کی راحتوں اور سعادتوں سے سرفراز ہو۔‘‘ (جنتی زیور، صفحہ 140 ، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ، کراچی) * حضورﷺ کی کھانے کی سادگی: * حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ ایک قوم کے پاس سے گزرے جن کے آگے بکری کا بھنا ہوا گوشت رکھا ہوا تھا انہوں نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو شریک طعام ہونے کے لئے بلایا مگر آپ نے یہ فرما کر انکار کر دیا کہ آقا ﷺ نے کبھی جو کی روٹی پیٹ بھر کر نہ کھائی اور اسی طرح دنیا سے تشریف لے گئے۔ (فیضانِ ریاض الصالحین) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ کے اہل بیت کبھی لگا تار دو روز جو کی روٹی سے سیر نہ ہوئے یہاں تک کہ اسی طرح آپ ﷺ اس دنیا سے رحلت فرما گئے ۔ حضور اقدس ﷺ کے دولت خانہ میں بعض دفعہ دو دو مہینے آگ روشن نہ ہوا کرتی تھی (یعنی چولہا نہ جلتا)اور صرف پانی اور چھواروں پر گزارہ ہوتا تھا۔ بعض وقت آپ ﷺ بھوک کی شدت سے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت ابوطلحہ انصاری رضی الله تعالى عنه بيان فرماتے ہیں کہ ایک روز ہم نے رسول اللهﷺ سے بھوک کی شکایت کی اور ہم میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے پیٹ پر ایک ایک پتھر بندھا دکھایا۔ آپ ﷺ نے اپنے پیٹ مبارک پر دو پتھر بندھے دکھائے ۔ *لباس کی سادگی؛* ہمارے پیارے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو باوجودِ قدرت اچھے کپڑے پہننا تواضع (عاجزی) کے طور پر چھوڑ دے گا اللہ پاک اس کو کرامت کا حلہ (یعنی جنّتی لباس) پہنائے گا۔ حضرت علّامہ ابنُ الحاج رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:رسولِ پاک ﷺ لباس کے بارے میں تکلف نہ فرماتے بلکہ جو آسانی سے میسّر ہوتا اُسے ہی پہن لیتے۔ ایک بار چٹائی پر آرام فرمانے کے سبب حضورِ اکرم ﷺ کے جسم مبارَک پر چَٹائی کا اثر ظاہر ہوگیاتھا۔ یاد رہے ۔۔۔!! ہماری سادگی سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ بندہ بھوکا ہی رہے ، اپنے کھانے،پینے، اور پہننے کے لباس پر بالکل توجہ نہ کریں۔ کیونکہ اپنی صحت کا خیال رکھنا اور پاکیزگی و طہارت کا اہتمام کرنا یہ حکم تو خود دین اسلام کا ہے۔ مراد یہ ہے کہ بندہ کھانے پینے و پہننے کے معاملات میں بےجاہ تکلفات سے بچے ۔ خاص مواقع مثلاً: جمعہ، عیدین، و دیگر اہم مواقع پر یا کبھی کبھار اظہارِ نعمتِ خداوندی کے لیے عمدہ لباس پہننا ،عمدہ غذائیں کھانا اوردیگر عمدہ چیزیں برتنا ،شرعاً جائز ،بلکہ مستحسن اور اچھا عمل ہے جبکہ تکبر وناموری نہ ہو۔ اللہ پاک ہمیں سادگی اختیار کرنے کی دولت عطا فرماۓ آمین۔ *"تیرى سادگى پہ لاکھوں تِرى عاجزى پہ لاکھوں ہوں سلام عاجزانہ مدنى مدینے والے"*