logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

حضور  ﷺکی امت پر شفقت ورحمت

حضور ﷺکی امت پر شفقت ورحمت

نبی پاک ﷺ کی ذاتی صفات

حدیث

حکایت

اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنے حبیب پاکﷺ کے اوصاف حمیدہ میں ذکر کر دیا کہ امت کی تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے۔ چنانچہ حضرت عبد الله بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ رسول الله ﷺ نے اللہ عزوجل کا قول جس کی نسبت حضرت ابراہیم کی طرف ہے *"رَبِ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ۔۔۔۔الآية"* اور حضرت عیسیٰ کا قول *"إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَ إِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيم"* تلاوت فرمایا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی: *"اَللّٰہُمَّ اُمَّتِی اُمَّتِی"* (خدایا میری امت میری امت ) اور رو پڑے۔ اللہ تعالی نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ محمدﷺ کے پاس جاؤ (حالانکہ تیرا پروردگار خوب جانتا ہے۔ ) ان سے رونے کا سبب دریافت کرو۔ حضرت جبرئیل نے حاضر خدمت ہو کر رونے کا سبب پوچھا۔ آپﷺ نے بتادیا (حالانکہ خدا کو خوب معلوم ہے۔) اللہ تعالیٰ نے حکم دیا: اے جبرئیل محمد ﷺ کے پاس جاؤ اور ان سے کہہ دو کہ ہم آپﷺ کو آپﷺ کی امت کے بارے میں راضی کریں گے اور غمگین نہ کریں گے. حضورﷺ نے تین رات نماز تراویح اپنے صحابہ کرام کو پڑھائی چوتھی رات صحابہ کرام بکثرت مسجد میں جمع ہوئے اور انتظار کرتے رہے مگر حضور ﷺ تشریف نہ لائے۔ صبح کی نماز کے بعد آپ ﷺنے یوں تقریر فرمائی؛ *"أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَى مَكَانَكُمْ لٰكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا "* امابعد ! تمہارا مسجد میں جمع ہونا مجھ پر پوشیدہ نہ تھالیکن میں ڈرگیا کہ کہیں تم پر یہ نماز فرض نہ ہو جائے اور تم اس کے ادا کرنے سے عاجز آجاؤ۔ نماز تراویح کی طرح بعض اور افعال کو آپ ﷺنے صرف اس لئے ترک کر دیا کہ کہیں امت پر فرض نہ ہو جائیں۔ جیسے ہر نماز کے لئے مسواک کا ترک کرنا ، اور صوم وصال ( یعنی بغیر سحر وافطار کے مسلسل روزہ رکھنا) سے منع فرمانا وغیرہ۔ شب معراج میں پہلے پچاس نمازیں فرض ہوئیں۔ بارگاہ رب العزت سے واپس آتے ہوئے جب آپﷺ چھٹے آسمان میں حضرت موسی علی نبینا و عَلَيْهِ السلام کے پاس سے گزرے تو انہوں نے آپ ﷺسے دریافت کیا کہ کیا حکم ملا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر روز پچاس نمازوں کا حکم ملا ہے۔ حضرت موسی علی نَبِيِّنَا وَ عَلَيْهِ السَّلام نے عرض کیا کہ آپ ﷺکی امت ہر روز پچاس نمازیں نہ پڑھ سکے گی۔ آپ ﷺاپنی امت سے بوجھ ہلکا کرائیں۔ چنانچہ آپﷺ درگاہ رب العزت میں بار بار حاضر ہو کر تخفیف کراتے رہے یہاں تک کہ پانچ رہ گئیں اور آپ ﷺ اس پر راضی ہو گئے۔ (سیرت رسول عربی ﷺ ص؛313)

اہم نکات

  • اس سے یہ پتا چلا کہ حضورﷺ جس طرح اپنی امت سے محبت کرتے تھے امت کو بھی چاہئے کہ آقاﷺسے وفا داری کا ثبوت دے۔
  • حضورﷺکے فرامین پر عمل کریں آپﷺ کی سنتوں کو اپنائیں اور اپنی نسلوں کو بھی حضور ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کریں ۔

آیات

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْم

حضور ﷺکی امت پر شفقت ورحمت | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya