اسلامک ڈیسک کی جانب سے


وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَتَّخِذُوْا ظُهُوْرَ دَوَابِّكُمْ مَنَابِرَ، فَإِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى إِنَّمَا سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُبَلِّغَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُوْنُوْا بَالِغِيْهِ إِلَّا بِشِقِّ الأَنْفُسِ،وَجَعَلَ لَكُمُ الأَرْضَ فَعَلَيْهَا فَاقْضُوْا حَاجَاتِكُمْ۔
مشکاۃ المصابیح، باب آداب السفر(حدیث 3916)روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا اپنے جانوروں کی پیٹھوں کو منبر نہ بناؤ کیونکہ اﷲ تعالٰی نے انہیں اس لیے تمہارا تابع کیا ہے کہ تم کو اس شہر تک پہنچادیں جہاں تم بغیرسخت مشقت کے نہ پہنچتے۔اور رب نے زمین تمہارے لیے ہی پیدا کی ہے تو تم زمین پر اپنی ضروريات پوری کرو ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص راستے میں چل رہا تھا اسے سخت پیاس لگی ایک کنواں نظر آیاتو اس میں اترکر اس نے پانی پیا پھر نکل آیا اس نے ایک کتا دیکھا جو پیاس کے مارے زبان نکالے ہوئے تھا اور مٹی کھارہا تھا اس شخص نے سوچا کہ اس کتے کو پیاس سے ویسی ہی تکلیف ہے جیسی مجھے تھی اس لئے وہ کنوئیں میں اترا اور اپنا موزہ پانی سے بھرا پھر اسے اپنے منہ سے پکڑا یہاں تک کہ اوپر چڑھ آیا اور کتے کو پانی پلایا خدا نے اس کی قدردانی کی اور اسے بخش دیا۔ صحابہ کرام رضوان اللهِ تعالى عليهم اجمعِین نے عرض کیا: یا رسول الله ﷺ کیا چوپایوں میں ہمارے واسطے کچھ اجر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر ذی روح میں اجر ہے ۔ ایک روز آپ ﷺ ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں ایک اونٹ ہے جب اس اونٹ نے حضورﷺ کو دیکھا تو رو پڑا اور اس کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ آپ ﷺاس کے پاس آئے اور اس کے پس گوش ( یعنی کان کے پیچھے)پر ہاتھ پھیرا وہ چپ ہو گیا آپﷺ نے دریافت فرمایا کہ اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ ایک انصاری نے عرض کیا کہ یہ اونٹ میرا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو اس چو پائے کے بارے میں جس کا اللہ نے تجھ کو مالک بنایا ہے خدا سے نہیں ڈرتا ! اس نے میرے پاس شکایت کی ہے کہ تو اسے بھوکا رکھتا ہے اور کثرت سے تکلیف دیتا ہے۔ حضور ﷺ کی جانوروں پر شفقت کا یہ عالم تھا کہ آپ ﷺ نے چوپایوں کو آپس میں لڑانے، کسی جانور کو بلا وجہ شکار کرنے، کسی جانور کو ہلاک کرنے کے لئے حبس (قید کر نے)اور حیوان کو مثلہ بنانے (یعنی ان کے عضاء کو بگاڑنے ) سے بھی منع فرمادیا۔ (سیرت رسول عربیﷺ ص؛332)