اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہ وَ آلہِ وَسَلَّم إِذَا جَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ احْتَبَی بِيَدَيْهِ۔
مشکاۃالمصابیح (حدیث 4713)روایت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ جب مسجد میں بیٹھتے تو اپنے ہاتھوں سے احتباء فرماتے تھے۔
*حضور ﷺ کے بیٹھنے کے انداز:* (1)پیارے آقاﷺ اکثر قبلہ رُو اور دوزانو بیٹھا کرتے تھے۔ (مراٰۃ المناجیح،ج8، ص90) (2)آپ ﷺ سے چارزانو (یعنی پالتی مارکر)بیٹھنا بھی ثابت ہے۔ (ابوداؤد،،حدیث:485) (3)آپﷺکوکعبہ شریف کے صِحْن میں اِحتِبا کی صورت میں بھی تشریف فرما دیکھا گیا۔ (صحیح بخاری، حدیث: 6272) *احتباء کسے کہتے ہیں:* اِحتِباکا مطلب یہ ہے کہ آدمی سُرِیْن کے بل بیٹھےاور اپنی دونوں پنڈلیوں کو دونوں ہاتھوں کے حلقے میں لے لے۔ اِس قسم کا بیٹھنا عاجِزی و انکساری میں شمار ہوتا ہے۔ (بہارِشریعت،ج3، ص432) حضرت قیلہ بنت مخرمہ رضی اﷲ عنہا کا بیان ہے کہ اُنہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ گھٹنے کھڑے کر کے اُن کے گرد اپنے ہاتھوں سے حلقہ بنا کر بیٹھے سر جھکائے ہوئے عاجزی کی حالت میں دیکھا۔ (سنن ابو داود حدیث 4847) حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو تکیہ مبارک پر ٹیک لگائے بیٹھے دیکھا ہے۔ (ترمذی شریف حدیث 2771)