اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا مَسِسْتُ حَرِيرًا وَلَا دِيبَاجًا أَلْيَنَ مِنْ کَفِّ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا شَمِمْتُ رِيحًا قَطُّ أَوْ عَرْفًا قَطُّ أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ أَوْ عَرْفِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔
صحیح بخاری (حدیث 3561)حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہےکہ نہ تو نبی کریم ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم و نازک کوئی میرے ہاتھوں نے کبھی چھوا اور نہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خوشبو سے زیادہ بہتر اور پاکیزہ کوئی خوشبو یا عطر سونگھا۔
آپ ﷺ کی مقدس ہتھیلیاں چوڑی، پرگوشت، کلائیاں لمبی، باز و دراز اور گوشت سے بھرے ہوئے تھے۔حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی ریشم اور دیا کو آپ ﷺ کی ہتھیلیوں سے زیادہ نرم و نازک نہیں پایا اور نہ کسی خوشبو کو آپﷺ کی خوشبو سے بہتر اور بڑھ کر خوشبودار پایا۔ (طبرانی حدیث 9237) جس شخص سے آپ ﷺ مصافحہ فرماتے وہ دن بھر اپنے ہاتھوں کو خوشبو دار پاتا ۔ جس بچے کے سر پر آپ ﷺ اپنا دست اقدس پھرا دیتے تھے وہ خوشبو میں تمام بچوں سے ممتاز ہوتا۔ حضرت محمد بن انس بن فَضالہ رضی اللہُ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسولِ کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو میں دو ہفتے کا تھا، مجھے حضورِ اکرم ﷺ کی بارگاہ میں لایا گیا، نبی کریم ﷺ نے میرے سر پر دستِ شفقت پھیرا اور مجھے دعائے برکت سے نوازا۔ حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: مجھے میری خالہ نبیِّ کریم ﷺ کی بارگاہ میں لے گئیں اور عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ!میرا بھانجا بیمار ہے، حضورِ اکرم ﷺ نے میرے سَر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے دعائے برکت فرمائی۔ حضرت قرط بن ابو رمثہ رضی اللہُ عنہما آپ رضی اللہُ عنہ نے اپنے والد حضرت ابو رمثہ رضی اللہُ عنہ کے ساتھ مدینۂ منورہ ہجرت کی، نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو ئے تو رسولِ کریم ﷺ نے حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ یہ تمہارا بیٹا ہے؟ حضرت ابورمثہ رضی اللہُ عنہ نے عرض کی جی ہاں۔ حضورِ اکرم ﷺ نے حضرت قرط رضی اللہُ عنہ کو بلا کر اپنی گود مبارک میں بٹھا لیا اور ان کے لئے برکت کی دُعا کی، ان کے سَر پر دستِ شفقت پھیرا اور ان کے سر پر سیاہ عمامہ شریف باندھا۔ (سیرت رسول عربیﷺ ص 263) حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضور ﷺ کے ساتھ نماز ظہر ادا کی پھر آپ ﷺ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ ہی نکالا ۔ آپ ﷺ کو دیکھ کر چھو ٹے چھوٹے بچے آپ ﷺ کی طرف دوڑ پڑے تو آپﷺ ان میں سے ہر ایک کے رخسار پر اپنا دست رحمت پھیر نے لگے میں سامنے آیا تو میرے رخسار پر بھی آپﷺ نے اپنا دست مبارک لگا دیا تو میں نے اپنے گالوں پر آپﷺ کے دست مبارک کی ٹھنڈک محسوس کی اور ایسی خوشبو آئی کہ گویا آپﷺ نے اپنا ہاتھ کسی عطر فروش کی صندوقچی میں سے نکالا ہو۔ (صحیح مسلم حدیث 2329)