اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فِي لَيْلَةٍ إِضْحِيَانٍ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَائُ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَإِلَی الْقَمَرِ فَلَهُوَ عِنْدِي أَحْسَنُ مِنَ الْقَمَرِ۔
(شمائل ترمذی حدیث 09)حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو چودہویں رات میں (دھاری دار ) سرخ یمنی جوڑا پہنے ہوئے دیکھا میں کبھی آپ کی طرف دیکھتا اور کبھی چاند کی طرف تو آپ ﷺ میرے نزدیک یقیناً چاند سے زیادہ حسین تھے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت حفصہ بنت رواحہ رضی اﷲ عنہا سے ایک سوئی اُدھار لی، میں اُس سے حضور نبی اکرمﷺ کا لباس مبارک سی رہی تھی، پس وہ سوئی مجھ سے گر گئی۔ میں نے اُسے تلاش کیا مگر (ناکافی روشنی کے باعث) وہ مجھے نہ ملی، پس حضور نبی اکرمﷺ حجرہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ کے چہرہ انور کے نور کی شعاع سے وہ سوئی واضح ہو گئی۔ (دلائل النبوہ ص 113) حضرت سیّدتنا عائشہ صدّىقہ رضی الله تعالى عنها فرماتى ہىں: آپ ﷺ کا حُسن عالَم سے نرالا اور رنگ بدن نہایت روشن تھا، جو آپﷺ کا وصف بیان کرتا وہ چودھویں رات کے چاند سے تشبیہ دیتا اور آپ ﷺ کا پسىنہ مبارک چمک اور صفائى میں موتی کے مانند تھا۔ (دلائل النبوہ ص360) حضرت سیّدنا ابوہریرہ رضی الله تعالى عنه فرماتے ہیں کہ: میں نے کوئى شئی نبیِّ مکرّم ﷺ سے زیادہ خوبصورت نہ دیکھى، گویا آفتاب ان کے چہرے میں رواں ہے۔ (جامع ترمذی حدیث 3668) حضرتِ عَمْرو بن عاص رضی الله تعالى عنه بیان فرماتے ہیں، چنانچِہ فرمایا: میرے نزدیک رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کوئی حسین تَر نہیں تھا، میں حُضُورِ اکرم ﷺ کے مقدّس چہرہ کو اُس کے جلال و جمال کی وجہ سے جی بھر کر دیکھنے کی تاب نہ رکھتا تھا، اگر کوئی مجھے آپ ﷺ کے محامدومحاسن بیان کرنے کے لئے کہتا تو میں کیونکر ایسا کرسکتا تھا کیونکہ آپ ﷺ کو آنکھ بھرکر دیکھنا میرے لئے ممکن نہ تھا۔ ( صحیح مسلم حدیث 321) حضرت براء رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا حضور نبی اکرم ﷺ کا چہرہ انور تلوار کی طرح (چمک دار) تھا؟ اُنہوں نے فرمایا: نہیں بلکہ چاند کی طرح (روشن) تھا۔‘‘ (صحیح بخاری حدیث 3359) *"چھرے سے ضیا پائی ان چاند ستاروں نے" "اس در سے شفا پائی دکھ درد کے ماروں نے"*