logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

پیارے آقاﷺ کا لباس مبارک

پیارے آقاﷺ کا لباس مبارک

نبی پاک ﷺ کے شب و روز

حدیث

و عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ کَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَی رَسُولِ اللهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہ وَ آلہِ وَسَلَّم أَلْقَمِيصُ ۔

(شمائل ترمذی حدیث 52)

ترجمہ

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے منقول ہے کہ حضور اقدس ﷺ سب کپڑوں میں کُرتے (یعنی قمیص) کو زیادہ پسند فرماتے تھے۔

حکایت

حضور ﷺ کا عام لباس قمیص اور تہبند تھا۔ روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ محبوب ترین لباس جس کا پہننا نبی ﷺ کو پسند تھا حمرہ تھا،یہ یمن کی دھاری دار چادریں جن کو عربی میں حمرة کہتے ہیں حضور ﷺ سب سے زیادہ پسند فرماتے تھے۔ (مراۃالمناجیح حدیث 4304) سرکارِ مدینہﷺ نے سفید لباس کو بھی پسندفرمایا۔ حضور ﷺ سفید لباس زیب تَن فرماتے اور لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دلاتے، حضرت سیدنا سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحب لولاک ﷺ نے فرمایا: سفید لباس پہنو کیونکہ یہ زیادہ صاف اورپاکیزہ ہے۔ بعض اوقات آپﷺ نے اُونی جبہ شامیہ استعمال فرمایا ہے جس کی آستینیں اس قدر تنگ تھیں کہ وضو کے وقت ہاتھ آستینوں سے نکالنے پڑتے تھے۔ جبہ کسروانی بھی پہن لیتےتھے جس کی جیب اور دونوں چاکوں پر ریشمی گوٹ تھی۔ ایسی اونی چادر بھی آپ ﷺ نے پہنی ہے جس پر کجاوہ کی شکل بنی ہوئی تھی۔ سرخ لباس کو نا پسند فرماتے تھے۔ پاجامہ آپ ﷺ نے کبھی نہیں پہنا۔ (سیرت رسول عربیﷺ ص282) حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں، کہ حضور اقدس ﷺ حضرت اسامہ پر سہارا لگائے ہوئے مکان میں تشریف لائے۔ اس وقت حضور اقدس ﷺ کے پاس ایک یمنی منقش کپڑا تھا جس میں حضور ﷺ لپٹے ہو ئے تھے۔ پس حضور ﷺ نے باہر تشریف لا کرصحابہ کو نماز پڑھائی۔ (شمائل ترمذی حدیث56) *لباس مبارک کبھی میلا نہ ہوا:* شارحِ بخاری امام احمد بن محمد قسطلانی رحمۃاللہِ علیہ نقل فرماتے ہیں : رسولُ اللہ ﷺ سے صرف پاکیزگی اور خوشبو ہی ظاہر ہوتی تھی اور اس کی نشانی بدن مبارک میں یہ تھی کہ لباس میلا نہیں ہوتا تھا، چنانچہ آپ ﷺکا مبارک لباس کبھی میلا کچیلا نہیں ہوا۔ (مواہب اللدنیہ جلد 02 صفحہ 162) امامِ اہلِ سنّت، عاشق ماہ رسالت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں : *مَیل سے کس درجہ ستھرا ہے وہ پُتلا نور کا ہے گلے میں آج تک کورا ہی کُرتا نور کا*

پیارے آقاﷺ کا لباس مبارک | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya