اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ لَوْ شِئْتُ لَسَارَتْ مَعِيَ جِبَالُ الذَّهَبِ جَاءَنِي مَلَكٌ وَإِنَّ حُجْزَتَهٗ لَتُسَاوِي الْكَعْبَةَ فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ: إِنْ شِئْتَ نَبِيًّا عَبْدًا وَإِنْ شِئْتَ نَبِيًّا مَلِكًا فَنَظَرْتُ إِلٰى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنْ ضَعْ نَفْسَكَ۔
مشکاۃ المصابیح (حدیث5835)روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛ اے عائشہ اگر میں چاہوں تو میرے ساتھ سونے کے پہاڑ چلیں میرے پاس ایک فرشتہ آیا جس کی کمر کعبہ کے برابر تھی اس نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کا رب آپﷺ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر آپﷺ چاہیں تو بندگی والے نبی بنیں اور اگر چاہیں تو بادشاہ نبی بنیں، تو میں نے جبریل علیہ السلام کی طرف دیکھا،تو انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ ﷺ اپنی ذات میں انکسار کریں۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ راوی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ اپنے عصاء مبارک پر ٹیک لگاتے ہوئے کا شانہ نبوت سے باہر تشریف لائے تو ہم سب صحابہ تعظیم کے لئے کھڑے ہو گئے یہ دیکھ کر عاجزی کے طور پر ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اس طرح نہ کھڑے رہا کرو جس طرح عجمی لوگ ایک دوسرے کی تعظیم کے لئے کھڑے رہا کرتے ہیں میں تو ایک بندہ ہوں بندوں کی طرح کھاتا ہوں اور بندوں کی طرح بیٹھتا ہوں ۔ (شفاء شریف جلد اص 86) آپﷺ نے اس حدیث مبارکہ میں اپنی ذات کے لئے کھڑے ہونے کے عمل سے اپنی صفت تواضع اور خُلقِ عاجزی و انکساری کی بنا پر منع کر دیا جبکہ آپ ﷺ نے اپنے اسی عمل کو دوسرے افراد کے لیے اختیار کرنے کا حکم دیا جب آپ ﷺ کی خدمت میں ایک قبیلے کاسردار آتا ہے تو آپﷺ اپنی مجلس میں موجود تمام صحابہ کو حکم دیتے کہ سب کھڑے ہوکر اپنے سردار کا استقبال اور احترام بجا لاؤ۔ *عاجزی کیا ہے:* لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام و مرتبے کے اعتبار سے ان کے لئے نرمی کا پہلو اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر و کَمْتَر اور چھوٹا خیال کرنا عاجزی و اِنکساری کہلاتا ہے۔(فیض القدیر،ج 1،ص599، تحت الحدیث: 925) حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ عزوجل کے لئے عاجزی کرتا ہے اللہ عزوجلّ اسے بلندی عطا فرما تا ہے۔حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول الله ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کہنے لگا *"يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ" * اے بہترین خلق۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ *"خير البرية"* تو ابراہیم عليه الصلاة والسلام ہیں۔ (مشکاۃ المصابیح حدیث 4896) حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا بیان ہے کہ حضور تاجدار دو عالم ﷺ کبھی کبھی اپنے پیچھے سواری پر اپنے کسی خادم کو بھی بٹھا لیا کرتے تھے۔ ترمذی شریف کی روایت ہے کہ جنگ قریظہ کے دن آپﷺ کی سواری کے جانور کی لگام چھال کی رسی سے بنی ہوئی تھی۔ (زرقانی جلد 4ص 264) حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ غلاموں کی دعوت کو بھی قبول فرماتے تھے۔ جو کی روٹی اور پرانی چربی کھانے کی دعوت دی جاتی تھی تو آپ ﷺ اس دعوت کو قبول فرماتے تھے۔ مسکینوں کی بیمار پرسی فرماتے،فقراء کے ساتھ ہم نشینی فرماتے اور اپنے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کے درمیان مل جل کرنشست فرماتے۔(شفاء شریف جلد اص 88) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ حضور ﷺ اپنے گھریلو کام خود اپنے دست مبارک سے کر لیا کرتے تھے۔ اپنے خادموں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا تناول فرماتے تھے اور گھر کے کاموں میں آپﷺ اپنے خادموں کی مدد فرمایا کرتے تھے ۔ ( شفاء شریف جلد اص 88 ) ایک شخص دربار رسالت میں حاضر ہوا تو جلالت نبوت کی ہیبت سے ایک دم خائف ہو کر لرزہ براندام ہو گیا اور کانپنے لگا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم بالکل مت ڈرو۔ میں نہ کوئی بادشاہ ہوں ، نہ کوئی جبار حاکم ، میں تو قریش کی ایک عورت کا بیٹا ہوں جو خشک گوشت کی بوٹیاں کھایا کرتی تھی ۔(زرقانی ج 4ص 672 و شفاء جلد اص 78) فتح مکہ کے دن جب فاتحانہ شان کے ساتھ آپﷺ اپنے لشکروں کے ہجوم میں شہر مکہ کے اندر داخل ہونے لگے تو اس وقت آپﷺ پر تواضع اور انکسار کی ایسی تجلی نمودار تھی کہ آپ ﷺ اونٹنی کی پیٹھ پر اس طرح سر جھکائے ہوئے بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ کا سر مبارک کجاوہ کے اگلے حصہ سے لگا ہوا تھا۔ (4) (شفاء جلد اص 88) حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ کی نعلین اقدس کا تسمہ ٹوٹ گیا اور آپ ﷺ اپنے دست مبارک سے اس کو درست فرمانے لگے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ! مجھے دیجئے میں اس کو درست کردوں، میری اس درخواست پر ارشاد فرمایا کہ یہ صحیح ہے کہ تم اس کو ٹھیک کردو گے مگر میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ میں تم لوگوں پر اپنی برتری اور بڑائی ظاہر کروں ، اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم آپﷺ کو کسی کام میں مشغول دیکھ کر بار بار درخواست عرض کرتے کہ یا رسول اللہ ﷺ! (آپ خود یہ کام نہ کریں اس کام کو ہم لوگ انجام دیں گے مگر آپ ﷺ یہی فرماتے کہ یہ سچ ہے کہ تم لوگ میرا سب کام کر دو گے مگر مجھے یہ گوارا نہیں ہے کہ میں تم لوگوں کے درمیان کسی امتیازی شان کے ساتھ رہوں ۔ (زرقانی جلد 4 ص 265) *"مٹا دے اپنی ہستی کو گر کچھ مرتبہ چاہیے کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے"* لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی میں عاجز و انکساری پیدا کریں آپ دیکھیں گے کہ ایک زمانہ آپ کے لیے جھک جائے گا۔ اپنی ذات میں لچک پیدا کریں تکبر کسی طور پر ہم سب کو زیب نہیں دیتا۔ انسانیت کی معراج عاجزی ہے۔ دعا ہے کہ اے ربّ کریم تو ہمیں تکبر جیسے موذی مرض سے بچا کر عجزوانکساری کی دولت سے بہرہ مند فرما۔ آمین