logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

پیارے نبیﷺ کا لعاب  اقدس (تھوک مبارک)

پیارے نبیﷺ کا لعاب اقدس (تھوک مبارک)

نبی پاک ﷺ کی جسمانی صفات

حدیث

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا اشْتَكىَ الْاِنْسَانُ الشَّيْءَ مِنْهُ، اَوْ كَانَتْ بِهِ قَرْحَةٌ اَوْ جُرْحٌ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاُصْبُعِهِ هٰكَذَا وَوَضَعَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ الرَّاوِي سَبَّابَتَهُ بِالْاَرْضِ ثُمَّ رَفَعَهَا وَقَالَ: بِسْمِ اللهِ، تُرْبَةُ اَرْضِنَا، بِرِ يْقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى بِهِ سَقِيْمُنَا باِذْنِ رَبِّنَا۔

(فیضان ریاض الصالحین حدیث901)

ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت سیدَتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہافرماتی ہیں کہ جب کوئی شخص حضور نبی کریم ﷺ سے کسی بیماری کی شکایت کرتا یا اُسے کوئی زخم یا پھوڑا ہوجاتا تو آپ علیہ الصلٰوۃوالسَّلام اپنی انگلی سے اِس طرح اِشارہ کرتے ہوئے فرماتے۔ (پھرحدیث کے ایک راوی حضرت سفیان بن عیینہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی شہادت کی انگلی زمین پر رکھی پھر اٹھائی) اللہ کے نام سے ہماری زمین کی مٹی جو ہمارے بعض کے لعاب سے ملی ہوتی ہے،بحکم پروردگار اِس سے ہمارے مریض کو شفادی جاتی ہے۔ *شرح حدیث* مفَسرشہیر محدث کبیر حکیمُ الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنان فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ مریض کودم کرتے وقت مرض کی جگہ انگلی رکھتے پھر انگلی پر کچھ لعاب شریف لگا کر مٹی لگاتے، پھر اس کا لیپ مرض کی جگہ لگا دیتے اور یہ فرماتے جاتے کہ بفضلہٖ تعالیٰ ہمارا لُعاب اور مدینہ کی مٹی شفاہے۔

حکایت

حضرت سیدنا سہل بن سعدرضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اَکرمﷺ نے خیبر کے دن ارشاد فرمایا: میں یہ جھنڈا کل ایک ایسے شخص کودُوں گا، جس کے ہاتھ پر اللہ عزوجل فتح عطا فرمائے گا، وہ اللہ عزَّوجل اور اس کے رسولﷺ سے محبت کرتا ہے اور اللہ عزَّوجل اور اس کا رسولﷺ اس سے محبت فرماتے ہیں۔ راوی کہتےہیں: صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے وہ رات بڑی بے چینی سے گزاری کہ کس خوش نصیب کو سرکارﷺ جھنڈا عطا فرمائیں گے۔ صبح آپ ﷺ نے اِستفسار فرمایا؛ علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ صحابۂ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ وہ آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا ہیں ارشاد فرمایا: انہیں میرے پاس لاؤ ! چنانچہ ، جب آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ حاضرخدمت ہوئے تو سرکار ﷺ نے ان کی آنکھوں پر اپنا لُعاب مبارك (Blessed Saliva) لگایا اور ان کیلئے دعا فرمائی۔ اس کی برکت سے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی آنکھیں فوراً ٹھیک ہوگئیں اور ایسی ٹھیک ہوئیں گو یا کہ کبھی تکلیف تھی ہی نہیں۔ (مراۃالمناجیح حدیث 6089) روایت ہے حضرت جابر سے فرمایا کہ ہم خندق کے دن کھدائی کر رہے تھے کہ ایک سخت پتھر سامنے آگیا تو لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا کہ یہ پتھر خندق میں پیش آگیا ہے تو فرمایا ہم اتریں گے حضور ﷺ اُٹھے حالانکہ آپ ﷺ کا پیٹ پتھر سے بندھا ہوا تھا،ہم تین دن تک اس طرح رہے تھے کہ کوئی چکھنے کی چیز نہیں چکھی تھیں پھر نبی ﷺ نے کدال لی پتھر پر ماری تو پتھر ریگ رواں بن گیا پھر میں اپنی بیوی کی طرف گیا میں نے کہا کہ کیا تمہارے پاس کچھ ہے میں نے نبیﷺ کی سخت بھوک دیکھی ہے تو انہوں نے ایک تھیلا نکالا جس میں ایک صاع جو تھے اور ہمارے پاس بکری کی پٹھیا تھی میں نے اسے ذبح کیا میری بیوی نے جو پیسے حتی کہ ہم نے گوشت ہانڈی میں ڈالا پھر میں نبیﷺ کی خدمت میں آیا میں نے آپ سے چپکے سے سرگوشی کی عرض کیا یارسول اﷲ ہم نے اپنا بکری کا بچہ ذبح کیا ہے اور میری بیوی نے ایک صاع جو پِیسے ہیں حضور آپ اور آپ ﷺ کے ساتھ چھوٹی جماعت تشریف لائیں نبی ﷺ نے اعلان فرمادیا کہ اے خندق والو جابر نے کھانا تیار کیا ہے چلو پھر رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اپنی ہانڈی نہ اتارنا اور اپنے آٹے کی روٹی پکانا شروع نہ کرناحتی کہ میں آجاؤں، پھر حضور تشریف لائے تو حضورﷺ کے سامنے آٹا پیش کیا حضورﷺ نے لعاب دہن ڈالا اور دعائے برکت کی پھر ہماری ہانڈی کی طرف توجہ فرمائی اس میں لعاب ڈالا، پھر فرمایا کہ روٹی پکانے والی کو بلاؤ جو تمہارے ساتھ روٹی پکائے اور اپنی ہانڈی سے شوربا نکالو، اور اسے نہ اتارو مجاہدین ایک ہزار تھے،میں اﷲ کی قسم کھاتا ہوں کہ ان سب نے کھایا حتی کہ کھانا چھوڑ دیا۔ اور لوٹ گئے حالانکہ ہماری ہانڈی جیسی تھی ویسی ہی جوش مار رہی تھی اور ہمارا آٹا پکایا جارہا تھا جیساکہ تھا۔ (مراۃالمناجیح حدیث 5877) آپ ﷺ کا لعاب دہن ( تھوک ) زخمیوں اور بیماریوں کے لئے شفاء تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاؤں میں غار ثور کے اندر سانپ نے کاٹا۔ اس کا زہر آپ ﷺ کے لعاب دہن سے اتر گیا اور زخم اچھا ہوگیا۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ کے چہرے پر تیر لگا ، آپ ﷺ نے اس پر اپنا لعاب دہن لگا دیا فوراً ہی خون بند ہو گیا اور پھر زندگی بھران کو کبھی تیر و تلوار کا زخم نہ لگا۔ شفاء کے علاوہ اور بھی لعاب دہن سے بڑی بڑی معجزانہ برکات کا ظہور ہوا۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر میں ایک کنواں تھا۔ آپ نے اس میں اپنا لعاب دہن ڈال دیا تو اس کا پانی اتنا شیریں ہو گیا کہ مدینہ منورہ میں اس سے بڑھ کر کوئی شیریں کنواں نہ تھا۔ (خصائص الکبرٰی ص105)

پیارے نبیﷺ کا لعاب اقدس (تھوک مبارک) | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya