اسلامک ڈیسک کی جانب سے


وَعَنْ عَائِشَة قَالَتْ: كَانَ وِسَادُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَتَّكِئُ عَلَيْهِ مِنْ أُدُمٍ حَشْوُهٗ لِيْفٌ.
مشکاۃ المصابیح (حدیث 4308)حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کا وہ تکیہ جس پر آپ ٹیک لگاتے تھے چمڑہ کا تھا جس کا بھراؤ لیف تھا۔
حضورﷺ کے تکیہ جس سے آپ ﷺ ٹیک لگاتے تھے وہ بھی چمڑے کا تھا جس کے بھراؤ میں کھجور کا گودا تھا غرض یہ کہ ہر چیز میں سادگی تھی۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس ﷺ کو ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہو ئے دیکھا جو بائیں جانب رکھا ہوا تھا۔ (شمائل ترمذی حدیث 123) سیدنا عبداللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے کبھی بھی تکیہ لگا کر کھانا تناول نہیں فرمایا۔ محققین علماء نے ٹیک لگا کر کھانے کی چار صورتیں بیان کی ہیں جو کہ تمام کی تمام مذموم ہیں: (1) دونوں پہلوؤں میں سے کسی ایک پر تکیہ لگانا ۔ (۲) کسی ایک ہاتھ پر ٹیک لگانا ۔ (۳) چوکڑی مارکر کسی گڑے وغیرہ سے ٹیک لگانا ۔ (۴) دیوار یا تکیہ سے ٹیک لگا کر بیٹھنا ۔ کیونکہ ان چاروں صورتوں میں تکبر اور غرور پایا جاتا ہے، جبکہ سنت یہ ہے کہ کھانے کی طرف مائل ہو کر بیٹھے۔ (مراہ المناجیح حدیث 4168)