logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

پیارے نبی ﷺ کے دانت مبارک

پیارے نبی ﷺ کے دانت مبارک

نبی پاک ﷺ کی جسمانی صفات

حدیث

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم أَفْلَجَ الثَّنِيَّتَيْنِ إِذَا تَکَلَّمَ رُئِيَ کَالنُّورِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ ثَنَايَاهُ۔

شمائل ترمذی (حدیث 14)

ترجمہ

ابن عباس رضی اللہ تعالٰی فرماتے ہیں، کہ حضور اقدس ﷺ کے اگلے دانت مبارک کچھ کشادہ تھے۔ جب حضور اقدس ﷺ گفتگو فرماتے تو ایک نور ظاہر ہوتا جو دانتوں کے درمیان سے نکلتا تھا۔

حکایت

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی پاک ﷺ کے مبارک دانتوں کا مسوڑھوں اور جبڑوں کے اندر جڑاؤ (یعنی فکس ہونا) انتہائی خوبصورت اور حسین انداز میں تھا اور ترتیب میں کمال حسن محسوس ہوتا۔ (خصاٰئص الکبرٰی ص125) امام بیہقی فرماتے ہیں: آپ ﷺ کے دانت شنب تھے۔ شنب: یہ ہوتا ہے کہ دانت متفرق ہوں اس میں حسین فاصلے ہوں جیسے کنگھی کے داندن میں ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کنارے قدرے تیز تھے اس کے ساتھ ساتھ ایسے تھے جیسے آب دار موتی۔ کھلنے سے ایسے محسوس ہوتا جیسے ابھی ان سے پانی ٹپکے گا ۔ آپ ﷺ جب ہنستے تھے تو ایسے محسوس ہوتا جیسے برف کے اولے ہیں جو بادلوں کی سطح سے پھسلے ہیں جب مسکراکر ہنس دیتے تو لگتا بجلی آہستہ سے ایک دم تیز چمکتی ہے۔ (دلائل النبوہ ص303) حضرت ہند ابن ابی ہالہ بیان کرتے ہیں: *"كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم ضلیع الفم اشنب مفلج الاسنان یفترعن مثل حب الغمام"* آپ ﷺ کا منہ مبارک بڑا تھا دانت نہایت سفید چمک دار اور کشادہ تھے تبسم کے وقت اولوں کی طرح دکھائی دیتے۔ (سبل الہدی والرشاد ص30) حضرت عبداﷲ بن عباس سامنے کے دانتوں کی کشادگی اور حسن بیان کرتے ہیں: *"كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم افلج الثنیتین"* حضورﷺ کے سامنے کے دانت باہم ملے ہوئے نہیں تھے بلکہ ان میں مناسب فاصلہ اور کشادگی تھی۔ (سبل الہدی والرشاد، ص 32) مختصر یہ کہ حضور ﷺ دندان مبارک کی نفاست ،جڑاؤ، ترتیب، سفیدی، چمک،دمک،توازن سب کمال تھا۔

پیارے نبی ﷺ کے دانت مبارک | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya