اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلٰى رَأْسِهِ المِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهٗ جَاءَ رَجُلٌ وَقَالَ: إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ. فَقَالَ: «اقْتُلْهُ»۔
مشکوٰۃ المصابیح (حدیث 2718)روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم ﷺ فتح کے دن مکہ معظمہ میں اس طرح تشریف لائے کہ آپ ﷺ کے سر پر خود تھا، پھر جب خود اتارا تو ایک شخص آیا اور بولا کہ ابن خطل کعبہ شریف کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اسے قتل کردو ۔ شرح حدیث: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے مکہ میں داخل ہو تے وقت سر مبارک پر خود ( جنگی ٹوپی )پہن رکھا تھا ۔ جبکہ دوسری روایت میں عمامہ کا ذکر ہے ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اس بارے میں فرماتے ہیں کہ مکہ معظمہ میں داخل کے وقت آپ ﷺ کے سر مبارک پر خود (جنگی ٹوپی) تھا پھر جب مکہ میں داخل ہو گئے تو آپ ﷺ نے عمامہ پہن لیا۔
اسلام کے شروع میں خود کا استعمال عام تھا آپ ﷺ نے خود اس کا استعمال فرمایا ۔ خصوصا فتح مکہ کے دن آپﷺ نے خود پہنا ہوا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ کے خود کا نام *"مرشح “* اور *"ذو السبوع"* تھا۔ (سیرت ابن ہشام ) حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ غزوہ احد میں مشرکیں میں سے عتبہ بن ربیعہ نے رسول اللہ ﷺ کو پھر مارا تھا جس سے آپﷺ کے دائیں طرف کے نیچے کے دندان مبارک شہید ہوئے اور نیچے کے ہونٹ میں بھی چوٹ آئی اور آپ ﷺ کی پیشانی بھی زخمی ہوئی اور ابن قمر ملعون نے رسول اللہﷺ کے رخسار کو زخمی کیا اور آپ کے خود کے حلقوں میں سے دو حلقے آپ ﷺ کے رخساروں کے اندر پیوست ہو گئے۔ (مشکاۃالمصابیح )