اسلامک ڈیسک کی جانب سے


قالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ أَهْدَی دِحْيَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہ وَ آلہِ وَسَلَّم خُفَّيْنِ فَلَبِسَهُمَا وَقَالَ إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ وَجُبَّةً فَلَبِسَهُمَا حَتَّی تَخَرَّقَا لا يَدْرِي النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہ وَ آلہِ وَسَلَّم أَذِکًیً هُمَا أَمْ لا۔
شمائل ترمذی (حدیث 70)حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو بطور تحفہ دو موزے پیش کیے، آپ ﷺ نے انہیں پہنا اور اسرائیل نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حضرت عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک جبہ بھی پیش کیا ) آپ ﷺ نے انہیں پہنا یہاں تک کہ وہ پرانے ہوکر ) پھٹ گئے اور حضور اکرمﷺ کو یہ بتایا نہیں گیا تھا کہ وہ ذبح کیے ہوئے جانوروں کے ہیں یا نہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ذکر کیا ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے خلاء میں نکلے تو واپسی پر وضو فرمایا ، وضو کرنے کے بعد ایک موزہ پہنا ، اسی اثنا میں ایک پرندہ آیا اور دوسرے موزے کو اٹھا کر بلندی پر لے گیا ، پھر اس کو الٹ دیا تو اس سے ایک سیاہ سانپ نکلا ۔ ایک دوسری روایت میں ہے ابو امامہ رضی اللہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے موزے منگوائے ، ان میں سے ایک پہنا ، اسی اثنا میں ایک کوا آیا، جو دوسرا موزہ اٹھا کر لے گیا اور پھر اسے الٹ دیا تو اس میں ایک سانپ نکلا ۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ جب تک دونوں موزے جھاڑ نہ لے، نہ پہنے ۔ (سیرت مصطفیﷺ) روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جاے تو ایک جو تے میں نہ چلے حتی کہ اس کا تسمہ درست کرلے اور نہ ایک موزے میں چلے۔ (مراۃ المناجیح حدیث 4412) روایت ہے ابن بریدہ سے وہ اپنے والد سے راویت کرتے ہیں کہ (اصحمہ یعنی نجاشی جو شاہ حبشہ تھے) انھوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں دو سیاہ سادہ موزے ہدیۃً بھیجے حضورﷺ نے انہیں پہنا۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ موزے سیاہ رنگ کے بہتر ہیں۔ (شمائل ترمذی حدیث 69)