logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

صداقت مصطفٰی ﷺ

صداقت مصطفٰی ﷺ

نبی پاک ﷺ کی ذاتی صفات

حدیث

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّم الْمَدِينَةَ جِئْتُ، فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ.

(مشکاۃ المصابیح، باب فضل الصدق حدیث1907)

ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن سلام سے فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺمدینہ تشریف لائے تو میں حاضرہوا , جب میں نے چہرہ انور غور سے دیکھا تو پہچان لیا کہ آپ کا چہرہ پاک کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں.

حکایت

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ مجھے ابوسفیان ابن حرب نے منہ در منہ خبر دی کہا کہ میں اس صلح کے زمانہ میں جو میرے اور رسول الله ﷺ کے درمیان تھی کہتے ہیں کہ میں شام میں تھا کہ نبی ﷺ کا فرمان نامہ ہرقل کی پاس لایا گیا (حضور انور نے شاہان عرب و عجم کو تبلیغی فرمان نامے بھیجے جن میں ان سلاطین کو دعوت اسلام دی،اس سلسلہ میں شاہ روم ہرقل کو بھی دحیہ کلبی کے ہاں فرمان نامہ بھیجا یہاں اس واقعہ کا ذکر ہے)۔ابوسفیان نے کہا کہ یہ خط دحیہ کلبی لائے تھے اور انہوں نے بصرےٰ کے وزیر کو دیا تھا، پھر بصرےٰ کے وزیر نے ہرقل کو پہنچایا ہرقل بولا کہ کیا یہاں ان صاحب کی قوم کا کوئی آدمی ہے جو دعویٰ نبوت کررہے ہیں(ہرقل نے چاہا کہ فرمان عالی پڑھنے سے پہلے حضور انور کے حالات معلوم کرے پھر خط شریف کا مطالعہ کرے متکلم کے کلام کا حال معلوم ہوتا ہے)، لوگوں نے کہا ہاں چنانچہ قریش کی ایک جماعت میں میں بلایا گیا (یہ تیس آدمی تھے جو بغرض تجارت مکہ معظمہ سے شام کے ملک میں گئے ہوئے تھے ان کے سردار ابوسفیان تھے،یہ سب ہرقل کے دربار میں بلائے گئے)۔تو ہم ہرقل کے پاس گئے ہم کو اس کے سامنے بٹھلایا گیا وہ بولا کہ جن صاحب نے دعویٰ نبوت کیا ہے ان سے زیادہ قریبی تم میں کون ہے ابوسفیان نے کہا کہ میں بولا میں ہوں تو مجھے اس کے سامنے بٹھادیا ۔ (کیونکہ ابوسفیان قرشی ہیں،عبد مناف میں حضور انور سے مل جاتے ہیں،دوسرے لوگوں کو حضور انور سے یہ قرب میسر نہ تھا)اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے پھر اپنے مترجم کو بلایا اس نے کہا کہ ان لوگوں سے کہو کہ میں ان سے ان صاحب کے متعلق کچھ پوچھوں گا جو اپنے کو نبی کہتے ہیں تو اگر یہ مجھ سے جھوٹ کہیں تو تم انہیں جھٹلادینا ( یعنی تم لوگ اس گفتگو میں میری بھی مدد کرو اور ان ابوسفیان کی بھی،ان کی مدد تو اس طرح کہ ان کی سچی باتوں کی زبانی یا باشارہ سر تائید کرو اور جو وہ بھول جائیں انہیں بتادو،میری مدد اس طرح کہ اگر یہ کچھ جھوٹ بولیں تو انہیں نہ بولنے دو روک دو تاکہ مجھ کو ان کے متعلق صحیح حالات معلوم ہوجائیں)۔ابو سفیان کہتے ہیں الله کی قسم اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ مجھ پر جھوٹ مشہور کیا جاے گا تو میں اس سے جھوٹ بول دیتا(یعنی مجھے حضور انور سے اس زمانہ میں اتنی عداوت تھی کہ اگر میرے ساتھی میرے پاس نہ ہوتے اور مجھے اپنی بدنامی کا اندیشہ نہ ہوتا تو حضور انور کے متعلق بہت جھوٹی باتیں کہہ دیتا تاکہ اس کے دل میں حضور سے نفرت پیدا ہو۔معلوم ہوا کہ جھوٹ اور بدنامی کو کفار بھی برا سمجھتے تھے افسوس ان لوگوں پر جو خدا تعالٰی کو جھوٹ سے متصف مانیں)۔ پھر ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ ان سے پوچھوں کہ ان نبی کا خاندان تم میں کیسا ہے میں نے کہا وہ عالی خاندان ہیں بولا کیا ان کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ تھا میں نے کہا نہی بولا کیا ان کے دعویٰ نبوت سے پہلے تم انہیں جھوٹ سے متہم کرتے تھے میں نے کہا نہیں، وہ بولا ان کی پیروی کون کرتا ہے سردار لوگ یا کمزور لوگ میں نے کہا بلکہ کمزور لوگ بولا یہ لوگ بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں کہتے ہیں کہ میں نےکہا بلکہ بڑھ رہے ہیں بولا اس دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی اپنے دین سے ناراض ہو کر پھر جاتا ہے کہتے ہیں کہ میں نے کہا نہیں۔ بولا کیا تم نے ان سے کبھی جنگ کی ہے میں نے کہا ہاں بولا تمہاری ان سے جنگ کیسی ہوتی ہے کہتے ہیں میں نے کہا کہ ہمارے ان کے درمیان جنگ ایک ڈول ہوتی ہے(یہاں ڈول سے مراد پرانے زمانہ کا وہ ڈول ہے جس سے اس زمانہ میں کھیت سیراب کیے جاتے تھے کہ ایک رسے کے کناروں پر دو ڈول باندھ کر گول چکر پر رسا چڑھا کر ایک ڈول کو اوپر اور دوسرے کو نیچے کیا جاتا ہے،پھر ایک ڈول داہنے دوسرا بائیں طرف ڈالا جاتا تھا۔مطلب یہ ہے کہ کبھی وہ ہم پر غالب آتے ہیں جیسے غزوہ بدر میں اور کبھی ہم ان پر غالب آجاتے ہیں جیسے غزوہ احد میں،بولا کیا بدعہدی کرتے ہیں، میں نے کہا نہیں آج کل ہم ان سے صلح میں ہیں ہم نہیں جانتے کہ اس میں وہ کیا کریں گےکہتے ہیں کہ الله کی قسم کہ اس بات کے سوا اور کوئی چیز شامل کرنے کا مجھے موقعہ نہیں ملا وہ بولا کیا ان سے پہلے کسی نے یہ بات کہی تھی میں نے کہا نہیں پھر بادشاہ نے اپنے مترجم سے کہا کہ ان سے کہو کہ میں نے تم سے ان کے نسب کے متعلق پوچھا تو تم نے کہا کہ وہ تم میں عالی نسب ہیں اسی طرح انبیاءکرام اپنی قوم کے اعلیٰ نسب میں بھیجے جاتے ہیں اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ ہوا ہے تو تم نے کہا کہ نہیں میں کہتا ہوں کہ اگر انکے باپ دادوں میں بادشاہ ہوا ہوتا تو میں کہتا کہ یہ وہ صاحب ہیں جو اپنے باپ دادوں کے ملک کے طالب ہیں اور میں نے تم سے ان کے متبعین کے متعلق پوچھا کہ معمولی لوگ ہیں یا بڑے لوگ تو تم نے کہا بلکہ کمزور لوگ ہیں یہ ہی کمزور نبیوں کی متبعین رہے ہیں۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان کے اس دعویٰ سے پہلے تم انہیں جھوٹ کا الزام دیتے تھے تم نے کہا کہ نہیں میں نے پہچان لیا کہ یہ ناممکن ہےکہ وہ لوگوں پر تو جھوٹ نہ بولیں پھر الله پر جھوٹ باندھنے لگیں۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان میں سے کوئی اس دین میں داخل ہونے کے بعد اپنے دین اسلام سے ناراض ہوکر پھر بھی جاتا ہے تم نے کہا کہ نہیں ایمان کا ایسا ہی حال جب اس کی لذت و فرحت دلوں میں گھل مل جاتی ہےاور میں نے تم سے پوچھا کہ مسلمان بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں تو تم نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں ایمان کا یہی حال ہے حتی کہ پورا ہوجاتا ہےاور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا تم نے کبھی ان سے جنگ کی ہے تو تم نے کہا کہ تم نے ان سے جنگ کی ہے تو جنگ تمہارے اور ان کے درمیان ایک ڈول ہوتی ہے کہ وہ تم سے اور تم ان سے لیتے ہو اسی طرح انبیاء کرام آزمائے جاتے ہیں انجام انہی کے حق میں ہوتا ہے، اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا عہدشکنی کرتے ہیں تم نے کہا کہ نہیں کرتے اسی طرح انبیاء عہد شکنی نہیں کرتے ،اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا کسی نے ان سے پہلے یہ دعویٰ کیا ہے تم نے کہا کہ نہیں میں کہتا ہوں کہ اگر یہ بات ان سے پہلے کسی نے کہی ہوتی تو میں کہتا کہ ایسے صاحب ہیں جو اپنے سے پہلے کہی ہوئی بات کی پیروی کررہے ہیں پھر بولا وہ تم کو کیا حکم دیتے ہیں ،ہم نے کہا کہ ہم کو نماز،زکوۃ،صلہ رحمی، پاکدامنی کا حکم دیتے ہیں،وہ بولا جو تم کہتے ہو اگر یہ سچ ہے تو وہ بھیجے گئےنبی ہیں ،میں تو جانتا تھا کہ وہ ظاہر ہونے والے ہیں مگر میرا خیال یہ نہ تھا کہ وہ تم میں سے ہیں اگر میں جانتا کہ ان تک پہنچ سکوں گا تو ان سے ملنا پسند کرتا ۔اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو ان کے قدم دھوتا اور ان کا ملک میرے قدموں کے نیچے تک پہنچ جاے گا (یعنی ایمان و عرفان ایسی مزیدار چیزیں ہیں کہ جس دل میں یہ پہنچ جائیں وہاں سے پھر نہیں نکلتیں،کوئی لالچ تکلیف دل سے ایمان نہیں نکال سکتی)۔ پھر رسول الله ﷺ کا خط منگایا پھر اسے پڑھا۔ (مشکوة المصابیح ، حدیث:5861) حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے اس جواب سے معلوم ہو رہا ہے کہ حضور انور ﷺ کی زبان پاک پر ساری عمر شریف میں ایک بار بھی جھوٹ نہ آیا اگر ایک بار بھی جھوٹ بولا ہوتا تو آج ابوسفیان بڑھا چڑھا کر اسے بیان کرتے کیونکہ وہ اس وقت حضور انور ﷺ پر ایمان نہیں لاۓ تھے ۔ (البتہ بعد میں ایمان لے آۓ اور صحابی ہونے کی حیثیت سے قطعی جنتی ہونے کی فہرست میں شامل ہوگئے)۔ *حضرت عبداللہ بن سلام کی گواہی:* حضرت عبداللہ بن سلام ابھی ایمان نہ لائے تھے کہ حضور کو دیکھتے ہی پکار اٹھے : *"وَجهَا لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابِ"* ان کا چہرہ جھوٹے کا چہرہ نہیں۔ *ابو جہل کی گواہی:* ابو جہل؛ حضور انورﷺ کا سخت تر دشمن تھا ،یہ ہے دشمنوں کا اقرار و اعتراف۔ *"الفضل ما شہدت بہ اعداء"* (فضیلت تو یہ ہے کہ دشمن بھی اس کی گواہی دیں ) حضرت علی مرتضی کرم اللہ تعالٰی وجہ الکریم روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ابو جہل نے حضور ﷺ سے کہا کہ ہم (معشر قریش ) تم کو جھوٹا نہیں کہتے۔ لیکن جو کچھ ( کتاب و شریعت) تم لائے ہو اس سے ہم انکار کرتے ہیں۔ اس پر ابو جہل اور اس کے امثال کی شان میں اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: *"فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ ولَكِنَّ الظَّلِمِينَ بِايَتِ اللهِ يَجْحَدُونَ"* وہ تجھ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن ظالم خدا کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔ (سیرت رسول عربی ﷺ ص 369)

اہم نکات

  • سچا شخص کبھی رسوا نہیں ہوتا ،اور سچ بولنے سے انسان کئ مزید ہونے والے گناہوں سے بچ جاتا ہے ۔
  • اسکی نسبت جھوٹاشخص ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے کئ اور جھوٹ بولتا ہے ،اور اس کا جھوٹ کبھی ناکبھی پکڑا جاتا ہے۔
صداقت مصطفٰی ﷺ | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya