اسلامک ڈیسک کی جانب سے


أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْئٍ قَطُّ فَقَالَ لَا.
صحیح بخاری، کتاب الاداب (حدیث6034)حضرت سفیان، ابن مکندر سے اور وہ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سے جب بھی کوئی چیز مانگی تو آپﷺ نے کبھی نہیں نہ فرمایا۔
حضرت ابوذر رضي الله تعالی عنہ کا بیان ہے کہ ایک روز میں آقا کریم ﷺ کے ساتھ تھا، جب آپﷺ نے احد کو دیکھا تو فرمایا: "اگر یہ پہاڑ میرے لئے سونا بن جائے میں پسند نہ کروں گا کہ اس میں سے ایک دینار بھی میرے پاس تین راتوں سے زیادہ رہ جائے سوائے اس دینار کے جسے میں ادائے قرض کے لئے رکھوں ۔ (صحیح بخاری حدیث 2388) ایک روز نماز عصر کا سلام پھیرتے ہی آپ ﷺ دولت خانہ میں تشریف لے گئے پھر جلدی باہر آگئے صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیهم اجمعین کو تعجب ہوا آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے نماز میں خیال آگیا کہ صدقہ کا کچھ سونا گھر میں رکھا ہوا ہے مجھے پسند نہ آیا کہ رات ہو جائے اور وہ گھر میں پڑا رہے اس لئے جاکر اسے تقسیم کرنے کے لئے کہہ آیا ہوں۔ (صحیح بخاری حدیث 1221) حضرت صَفوان بن اُمَیّہ رضی اللہُ عنہ نے( اسلام لانے سے پہلے غزوۂ حُنین کے موقع پر)بکریوں کا سُوال کیا ، جن سے دوپہاڑوں کا درمیانی جنگل بھراہوا تھا ، آپ ﷺ نے وہ سب ان کو دے دِیں۔ اُنہوں نے اپنی قوم میں جا کر کہا : اے میری قوم! تم اسلام لے آؤ! اللہ پاک کی قسم! محمدﷺ ایسی سخاوت فرماتے ہیں کہ فَقر (محتاجی) کا خوف نہیں رہتا۔ مزید فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ حُنین کے دن مجھے مال عطا فرمانے لگے ، پس آپ ﷺ مجھے عطا فرماتے رہے ، یہاں تک کہ میری نظر میں محبوب ترین ہوگئے۔ (مشکاۃ المصابیح حدیث 5806) غزوۂ حُنین میں نبیِّ کریم ﷺ نے اس قدر کثرت سے سَخاوت فرمائی جس کا اَندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ آپ ﷺ نے بہت سوں کو 100، 100اُونٹ عطا فرمائے۔ (سیرت رسول عربیﷺ )